(وہ گھر) دوزخ ہے۔ (سب ناشکرے) اس میں داخل ہوں گے۔ اور وہ برا ٹھکانہ ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
به جهنم، آن قرارگاه بد، داخل مىشوند.
سورہ ابراہیم
جَهَنَّمَ يَصۡلَوۡنَهَاۖ وَبِئۡسَ ٱلۡقَرَارُ ٢٩
(وہ گھر) دوزخ ہے۔ (سب ناشکرے) اس میں داخل ہوں گے۔ اور وہ برا ٹھکانہ ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
جَہَنَّمَ: دوزخ کا نام، جو بدترین جگہ ہے۔
یَصْلَوْنَہَا: وہ اس میں داخل ہوں گے اور اس کی تپش اور گرمی کو بھگتیں گے۔
بِئْسَ الْقَرَارُ: کتنا برا ٹھکانہ ہے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کافروں اور گمراہوں کے انجام کو بیان فرمایا ہے جنہوں نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے کفر کو اختیار کیا، اور اپنے پیغمبر کو جھٹلایا۔ ان کا انجام جہنم ہے، جس میں وہ داخل ہوں گے اور اس کی شدید گرمی اور عذاب کا مزہ چکھیں گے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں کوئی راحت نہیں، کوئی سکون نہیں، اور نہ ہی وہاں سے نکلنے کی کوئی صورت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ ٹھکانہ کتنا برا ہے! یہ وہ بدترین قرار گاہ ہے جو کسی انسان کے لیے ہو سکتی ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا اور اس کی اطاعت کرنا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ جو لوگ اللہ کے احسانات کو بھول کر کفر اور نافرمانی کا راستہ اختیار کرتے ہیں، ان کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں اللہ کے احکامات پر عمل کریں، اس کے رسول ﷺ کی سنت کو اپنائیں، اور اس عذاب سے بچنے کی کوشش کریں جو کافروں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ رحم کرنے والا ہے، وہ چاہتا ہے کہ ہم جنت کی طرف راغب ہوں اور جہنم سے بچیں۔ آئیے ہم اپنے اعمال کو سنواریں اور اللہ کی رحمت کے طالب بنیں، کیونکہ قیامت کے دن ہر شخص کو اپنے اعمال کا بدلہ ملے گا۔
خدا مومنوں (کے دلوں) کو (صحیح اور) پکی بات سے دنیا کی زندگی میں بھی مضبوط رکھتا ہے اور آخرت میں بھی (رکھے گا) اور خدا بےانصافوں کو گمراہ کر دیتا ہے اور خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے
(اے پیغمبر) میرے مومن بندوں سے کہہ دو کہ نماز پڑھا کریں اور اس دن کے آنے سے پیشتر جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہوگا اور نہ دوستی (کام آئے گی) ہمارے دیئے ہوئے مال میں سے درپردہ اور ظاہر خرچ کرتے رہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔