ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- یستہزؤون: مذاق اڑاتے تھے، تمسخر کرتے تھے۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے حبیب محمد رسول اللہ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اے نبی! آپ اس بات سے غمگین نہ ہوں کہ آپ کی قوم کے لوگ آپ کا مذاق اڑاتے ہیں اور آپ کو جھٹلاتے ہیں، کیونکہ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت سی امتوں کی طرف رسول بھیجے تھے، مگر جب بھی کوئی رسول ان کے پاس آیا، انہوں نے اس کا مذاق اڑایا اور اسے جھٹلایا۔ یہ ایک پرانی روش ہے جو ظالموں اور کافروں کی رہی ہے۔
یعنی سنتِ الٰہیہ یہی رہی ہے کہ اہلِ باطل ہمیشہ اہلِ حق کا استہزاء کرتے رہے ہیں، چاہے وہ رسول ہی کیوں نہ ہوں۔ اس میں نبی اکرم ﷺ کے لیے بڑی تسلی ہے کہ آپ اکیلے نہیں ہیں، بلکہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کو اپنی قوموں کی طرف سے اسی قسم کی اذیتوں اور تمسخر کا سامنا کرنا پڑا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ حق پر قائم رہنے والوں کو چاہیے کہ وہ مخالفین کے طعن و تشنیع اور مذاق سے گھبرائیں نہیں۔ یہ راستہ ہمیشہ سے مشکل رہا ہے، لیکن انبیاء کرام علیہم السلام نے صبر و استقامت سے کام لیا اور اپنی دعوت جاری رکھی۔ آج بھی جو لوگ اللہ کے دین کی خدمت کرتے ہیں، انہیں بھی طرح طرح کے طعنے سننے پڑتے ہیں، مگر کامیابی انہیں نصیب ہوتی ہے جو صبر کریں اور اپنے مشن پر ڈٹے رہیں۔ یاد رکھیں، جب کوئی شخص حق پر ہوتا ہے تو اس کا مذاق اڑانا دراصل اس کی کامیابی کی دلیل ہے، کیونکہ شیطان اور اس کے پیروکار ہمیشہ حق کے دشمن رہے ہیں۔
📜 آیت 9-13 — حجر
ترجمہ — حجر 11
سورہ حجر آیت 11 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اُن کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا تھا مگر…سورہ آیت 11/99 — حجر الحجر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حجر سنیں, حجر ترجمہ, حجر mp3, حجر pdf. آیت 9–13. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








