ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- صَلْصَالٍ: خشک مٹی جو بجتی ہو، پکی ہوئی کھنک دار مٹی۔
- حَمَإٍ: سیاہ کیچڑ، بدبودار گدلا کیچڑ۔
- مَسْنُونٍ: بدبودار، یا وہ مٹی جو شکل دیے جانے کے بعد بدل چکی ہو۔
تفسیر:
جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور فرشتوں کو حکم دیا کہ انہیں سجدہ کریں، تو تمام فرشتوں نے تعمیلِ حکم کی، لیکن ابلیس نے سرکشی کی۔ اس نے کہا: "میں ایسا نہیں ہوں کہ اس بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے خشک کھنک دار مٹی سے پیدا کیا، جو سیاہ اور بدبودار کیچڑ سے تھی۔"
یہ الفاظ اس کے گھمنڈ اور حسد کا اظہار ہیں۔ اس نے اپنے آپ کو اس بشر سے افضل سمجھا، حالانکہ اللہ نے اسے حکم دیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ میں آگ سے بنا ہوں اور وہ مٹی سے، اس لیے میں اس سے بہتر ہوں۔ اس نے اپنی عقل کو معیار بنایا اور اللہ کے حکم کو رد کر دیا۔
دعوتی پہلو:
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ تکبر اور حسد انسان کو اللہ کی اطاعت سے روک دیتے ہیں۔ ابلیس نے اپنے علم اور عقل پر بھروسہ کیا، لیکن یہی اس کا زوال کا سبب بنا۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ کے حکموں کو بلا چون و چرا قبول کریں، چاہے وہ ہماری سمجھ میں نہ آئیں۔ اللہ کا حکم ہی سب سے بہتر ہے، اور اس کی اطاعت ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ آئیے ہم اپنے اندر سے تکبر اور حسد کو نکالیں اور عاجزی و انکساری کے ساتھ اللہ کے سامنے سر جھکائیں، کیونکہ عاجزی ہی وہ صفت ہے جو ہمیں فرشتوں جیسی بلندیوں تک پہنچا سکتی ہے۔
📜 آیت 31-35 — حجر
ترجمہ — حجر 33
سورہ حجر آیت 33 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (اس نے) کہا کہ میں ایسا نہیں ہوں کہ انسان…سورہ آیت 33/99 — حجر الحجر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حجر سنیں, حجر ترجمہ, حجر mp3, حجر pdf. آیت 31–35. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








