حجر · 32/99
ترجمہ تلفظ — حجر
قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا لَكَ أَلَّا تَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ ۝٣٢
Qaala yaaa Ibleesu maa laka allaa takoona ma`as saajideen
📖 اردو ترجمہ
(خدا نے فرمایا) کہ ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • ما لک: تجھے کیا ہو گیا؟ یعنی تیرا کیا عذر اور کیا سبب ہے؟
  • ألا تکون: کہ تو نہ ہو، یعنی تو نے سجدہ کرنے والوں میں شامل ہونے سے کیوں انکار کیا؟

تفسیر:

جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور انہیں اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کیا، تو فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں۔ تمام فرشتوں نے بلا کسی تردد کے اللہ کے حکم کی تعمیل کی اور سجدہ ریز ہو گئے۔ لیکن ابلیس، جو اپنے عبادت و ریاضت کی وجہ سے فرشتوں کے ساتھ شامل تھا، نے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔

اس پر اللہ رب العزت نے ابلیس سے پوچھا: "اے ابلیس! تجھے کیا ہو گیا کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہیں ہے؟" یہ سوال دراصل ابلیس کو اس کے جرم کا احساس دلانے کے لیے تھا، تاکہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرے اور توبہ کر لے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے موقع دیا کہ وہ اپنے موقف کی وضاحت کرے، لیکن ابلیس نے اپنے تکبر اور غرور کی وجہ سے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی۔

یہ سوال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے محبت اور شفقت کا معاملہ فرماتا ہے، اور جب کوئی بندہ غلطی کرتا ہے تو اسے موقع دیتا ہے کہ وہ اپنی غلطی سے باز آ جائے۔ لیکن ابلیس نے اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا اور اپنے تکبر کی وجہ سے اللہ کی رحمت سے محروم ہو گیا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرنی چاہیے، چاہے وہ حکم ہماری سمجھ میں کیوں نہ آئے۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ تکبر اور غرور انسان کو ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے، جیسا کہ ابلیس کا انجام ہوا۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو موقع دیتا ہے، لیکن جو شخص موقع سے فائدہ نہیں اٹھاتا، وہ خود اپنے انجام کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں اللہ کے احکام کی تعمیل کریں اور تکبر سے بچیں، کیونکہ تکبر وہ صفت ہے جو انسان کو اللہ کی رحمت سے محروم کر دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے حکموں کی تعمیل کرنے اور تکبر سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔



📜 آیت 30-34 — حجر

30فَسَجَدَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ
تو فرشتے تو سب کے سب سجدے میں گر پڑے
31إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ أَن يَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ
مگر شیطان کہ اس نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہونے سے انکار کر دیا
32قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا لَكَ أَلَّا تَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ
(خدا نے فرمایا) کہ ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا
33قَالَ لَمْ أَكُن لِّأَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُ مِن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ
(اس نے) کہا کہ میں ایسا نہیں ہوں کہ انسان کو جس کو تو نے کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے بنایا ہے سجدہ کروں
34قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌ
(خدا نے) فرمایا یہاں سے نکل جا۔ تو مردود ہے
حجرقرآن فہرست
99آیت
مکیRevelation
32آیت

ترجمہ — حجر 32

سورہ حجر آیت 32 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (خدا نے فرمایا) کہ ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ تو…

سورہ آیت 32/99 — حجر الحجر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حجر سنیں, حجر ترجمہ, حجر mp3, حجر pdf. آیت 30–34. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں