حجر · 65/99
ترجمہ تلفظ — حجر
فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّيْلِ وَاتَّبِعْ أَدْبَارَهُمْ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنكُمْ أَحَدٌ وَامْضُوا حَيْثُ تُؤْمَرُونَ ۝٦٥
Fa asri bi ahlika biqit`im minal laili wattabi` adbaarahum wa laa yaltafit minkum ahadunw wamdoo haisu tu`maroon
📖 اردو ترجمہ
تو آپ کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے نکلیں اور خود ان کے پیچھے چلیں اور اور آپ میں سے کوئی شخص مڑ کر نہ دیکھے۔ اور جہاں آپ کو حکم ہو وہاں چلے جایئے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فَأَسْرِ: رات کے وقت سفر کرو۔
  • بِقِطْعٍ مِنَ اللَّيْلِ: رات کے کسی حصے میں، یعنی رات کا کچھ حصہ گزر جانے کے بعد۔
  • وَاتَّبِعْ أَدْبَارَهُمْ: ان کے پیچھے پیچھے چلو، تاکہ ان کی حفاظت کر سکو۔
  • لَا يَلْتَفِتْ: پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔
  • وَامْضُوا حَيْثُ تُؤْمَرُونَ: جہاں تمہیں حکم دیا جا رہا ہے وہاں چلے جاؤ۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت لوط علیہ السلام کو ہدایت دے رہے ہیں کہ جب عذاب کا وقت قریب آ جائے تو وہ رات کے کسی حصے میں اپنے اہلِ ایمان کو لے کر نکل جائیں۔ یہ حکم اس وقت دیا گیا جب فرشتے حضرت لوط کے پاس آئے تھے اور انہیں یقین دلایا تھا کہ ان کی قوم پر عذاب نازل ہونے والا ہے، اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں وہ محفوظ رہیں گے۔

نبی کریم لوط علیہ السلام کو حکم دیا گیا کہ وہ رات کے اس حصے میں جب اندھیرا چھا جائے اور لوگ سو رہے ہوں، اپنے گھر والوں اور ایمان والوں کو لے کر روانہ ہو جائیں۔ اس سفر میں حضرت لوط کو حکم دیا گیا کہ وہ خود اپنے پیچھے چلیں تاکہ اگر کوئی پیچھے رہ جائے تو وہ اسے آگاہ کر سکیں، اور یہ بھی تاکید کی گئی کہ کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے، کیونکہ جو لوگ پیچھے رہ جائیں گے وہ عذاب میں گرفتار ہو جائیں گے۔

یہ حکم اس لیے تھا کہ اللہ کا عذاب صبح کے وقت ان کی قوم پر نازل ہونے والا تھا، اور حضرت لوط کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنے اہلِ ایمان کو لے کر اس مقام کی طرف چلے جائیں جہاں اللہ نے انہیں جانے کا حکم دیا تھا، جو کہ ارضِ مقدس (شام) تھی۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت اور اس کے حکم کی تعمیل ہی نجات کا ذریعہ ہے۔ جب اللہ کسی قوم پر عذاب لانے کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے کوئی نہیں روک سکتا، لیکن جو لوگ ایمان لائے ہوئے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں، اللہ انہیں ہمیشہ محفوظ رکھتا ہے۔

دوسرا سبق یہ ہے کہ ایمان والوں کو چاہیے کہ وہ برے ماحول سے نکل جائیں اگر وہاں اپنے دین پر قائم رہنا ممکن نہ ہو۔ حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کے درمیان کتنے عرصے تک تبلیغ کی، لیکن جب اللہ نے حکم دیا تو انہوں نے فوراً اطاعت کی اور اپنے اہلِ ایمان کو لے کر نکل گئے۔

تیسرا سبق یہ ہے کہ اللہ کی رحمت اپنے بندوں پر بہت وسیع ہے۔ اس نے حضرت لوط اور ان کے اہلِ ایمان کو عذاب سے بچانے کا انتظام پہلے سے کیا تھا۔ آج بھی جو لوگ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے حکموں پر عمل کرتے ہیں، اللہ انہیں ہر مصیبت سے نجات دیتا ہے۔

آئیے ہم سب اس آیت سے سبق حاصل کریں کہ ہمیشہ اللہ کے حکموں کی پیروی کریں، برے ماحول سے بچیں، اور یقین رکھیں کہ اللہ اپنے نیک بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں نکلتے ہیں، اللہ انہیں بہتر راستہ دکھاتا ہے اور ان کی حفاظت فرماتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 63-67 — حجر

63قَالُوا بَلْ جِئْنَاكَ بِمَا كَانُوا فِيهِ يَمْتَرُونَ
وہ بولے کہ نہیں بلکہ ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے
64وَأَتَيْنَاكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ
اور ہم آپ کے پاس یقینی بات لے کر آئے ہیں اور ہم سچ کہتے ہیں
65فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّيْلِ وَاتَّبِعْ أَدْبَارَهُمْ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنكُمْ أَحَدٌ وَامْضُوا حَيْثُ تُؤْمَرُونَ
تو آپ کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے نکلیں اور خود ان کے پیچھے چلیں اور اور آپ میں سے کوئی شخص مڑ کر نہ دیکھے۔ اور جہاں آپ کو حکم ہو وہاں چلے جایئے
66وَقَضَيْنَا إِلَيْهِ ذَٰلِكَ الْأَمْرَ أَنَّ دَابِرَ هَٰؤُلَاءِ مَقْطُوعٌ مُّصْبِحِينَ
اور ہم نے لوط کی طرف وحی بھیجی کہ ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی
67وَجَاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ
اور اہل شہر (لوط کے پاس) خوش خوش (دوڑے) آئے
حجرقرآن فہرست
99آیت
مکیRevelation
65آیت

ترجمہ — حجر 65

سورہ حجر آیت 65 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو آپ کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو…

سورہ آیت 65/99 — حجر الحجر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حجر سنیں, حجر ترجمہ, حجر mp3, حجر pdf. آیت 63–67. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں