ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَصْحَابُ الْأَيْكَةِ: وہ لوگ جو گھنے درختوں والی سرسبز وادی میں رہتے تھے، یعنی حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم۔
- لَظَالِمِينَ: یقیناً ظالم تھے، یعنی اپنے اوپر ظلم کرنے والے تھے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کا ذکر فرما رہے ہیں، جو گھنے درختوں اور سرسبز باغات والی بستی میں آباد تھی۔ یہ لوگ اللہ کی نعمتوں سے مالامال تھے، لیکن انہوں نے ان نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا اور اپنے رب کی طرف سے آئے ہوئے رسول کو جھٹلا دیا۔ انہوں نے کفر اور سرکشی کا راستہ اختیار کیا، اور اپنے اعمال سے ثابت کیا کہ وہ واقعی ظالم ہیں۔ ان کا ظلم صرف اپنے اوپر تھا، کیونکہ انہوں نے ہدایت کا راستہ چھوڑ کر گمراہی کو اپنایا اور اللہ کے عذاب کو دعوت دی۔
یہ وہی قوم تھی جس نے حضرت شعیب علیہ السلام کی دعوت کو رد کیا، ناپ تول میں کمی کی، لوگوں کو راہِ حق سے روکا اور زمین میں فساد پھیلایا۔ ان کے ان مظالم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں عذابِ ظُلّہ (بادل کا عذاب) اور زلزلے کے ذریعے ہلاک کر دیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ کی نعمتیں کسی کو گمراہی پر نہ چھوڑیں۔ جو لوگ اللہ کے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور اپنی سرکشی پر اڑے رہتے ہیں، وہ آخر کار اللہ کے عذاب کا شکار ہوتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں، اپنے نبی ﷺ کی اطاعت کریں اور ظلم و فساد سے بچیں۔ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، لیکن اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو ظلم سے پاک کریں اور اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالیں، تاکہ ہم اس دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکیں۔
📜 آیت 76-80 — سورہ حجر
ترجمہ — حجر 78
سورہ حجر آیت 78 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور بَن کے رہنے والے (یعنی قوم شعیب کے لوگ)…سورہ آیت 78/99 — سورہ حجر الحجر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ حجر سنیں, سورہ حجر ترجمہ, سورہ حجر mp3, سورہ حجر pdf. آیت 76–80. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Monday, September 7, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








