ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- الصَّیْحَةُ: عذاب کی وہ پکار یا دہاڑ جو ہلاک کرنے والی تھی۔
- مُصْبِحِینَ: صبح کے وقت، جب وہ صبح کر رہے تھے۔
تفسیر:
یعنی جب وہ قومِ ثمود اپنی سرکشی اور کفر پر اڑی رہی، اور اپنے نبی حضرت صالح علیہ السلام کی نصیحت کو جھٹلاتی رہی، تو اللہ تعالیٰ کا عذاب ان پر اس وقت آیا جب وہ صبح کے وقت تھے۔ وہ اپنے گھروں اور پہاڑوں میں محفوظ سمجھتے تھے، لیکن اللہ کا عذاب جب آتا ہے تو کوئی چیز اسے روک نہیں سکتی۔ اچانک ایک زبردست دہاڑ اور چیخ نے انہیں آ لیا، جس سے ان کے دل پھٹ گئے اور وہ ہلاک ہو گئے۔ یہ عذاب اس وقت آیا جب وہ صبح کر رہے تھے، یعنی اپنی دنیاوی مشاغل میں مصروف ہونے والے تھے، لیکن اللہ کے فیصلے نے انہیں اس دنیا سے اٹھا لیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کا عذاب کسی کو خبردار کیے بغیر نہیں آتا، لیکن جب آتا ہے تو کسی کو مہلت نہیں دیتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں اللہ کی نافرمانی سے بچیں، اور اپنے اوقاتِ عبادت کو غنیمت جانیں۔ صبح کا وقت برکت کا ہوتا ہے، لیکن اگر انسان صبح کو اللہ کی یاد سے غافل ہو کر گناہوں میں گزارے تو یہی وقت اس کے لیے عذاب کا سبب بن سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر صبح اللہ کا شکر ادا کریں اور اس کی اطاعت میں گزاریں، تاکہ ہم اس کے عذاب سے محفوظ رہیں اور اس کی رحمت کے مستحق بنیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اطاعت کی توفیق دے اور ہمیں ان قوموں کے انجام سے عبرت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 81-85 — حجر
ترجمہ — حجر 83
سورہ حجر آیت 83 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو چیخ نے ان کو صبح ہوتے ہوتے آپکڑاسورہ آیت 83/99 — حجر الحجر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حجر سنیں, حجر ترجمہ, حجر mp3, حجر pdf. آیت 81–85. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








