اور اسی نے زمین پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دیئے کہ تم کو لے کر کہیں جھک نہ جائے اور نہریں اور رستے بنا دیئے تاکہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک (آسانی سے) جاسکو
📜
ترجمہ — Tafsir
اللہ تعالیٰ نے زمین میں پہاڑوں کو مضبوط میخوں کی طرح گاڑ دیا ہے تاکہ وہ تمہیں لے کر ڈگمگائے نہیں اور نہ ہی تمہارے ساتھ جھکے۔ یہ پہاڑ زمین کے توازن کے لیے انتہائی اہم ہیں، جیسے کشتی کو بھنور میں مستحکم رکھنے کے لیے لنگر ڈالا جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ نے زمین میں نہریں جاری کیں تاکہ تم ان سے پانی پی سکو، اپنے جانوروں اور کھیتوں کو سیراب کر سکو، اور تمہاری زندگی کا نظام چلتا رہے۔ نیز اس نے تمہارے لیے راستے بنائے تاکہ تم ایک جگہ سے دوسری جگہ آسانی سے سفر کر سکو اور اپنے مقاصد تک پہنچ سکو، بھٹکنے اور گمراہ ہونے سے محفوظ رہو۔
یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ تم اللہ کی قدرت اور رحمت پر غور کرو، اس کے فضل کا شکر ادا کرو، اور اس کی راہ پر چلتے ہوئے ہدایت پاؤ۔ جب تم ان نعمتوں کو دیکھو تو سمجھو کہ یہ سب کچھ ایک حکیم اور رحیم خالق نے بنایا ہے، اور تمہارے اوپر اس کے احسانات کا کوئی شمار نہیں۔ پس اے انسان! اپنے رب کی نعمتوں کو پہچان، اس کی عبادت میں مشغول ہو، اور اس کی رحمت سے امید رکھ۔ یہ پہاڑ، نہریں اور راستے تمہیں یاد دلاتے ہیں کہ جس طرح اللہ نے زمین کو تمہارے لیے راحت کا گہوارہ بنایا، اسی طرح اس نے تمہیں صراطِ مستقیم دکھایا ہے تاکہ تم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو جاؤ۔ اللہ کی نشانیوں پر غور کرو، یہی تمہاری ہدایت کا ذریعہ ہے۔
اور وہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے اختیار میں کیا تاکہ اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ اور اس سے زیور (موتی وغیرہ) نکالو جسے تم پہنتے ہو۔ اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں دریا میں پانی کو پھاڑتی چلی جاتی ہیں۔ اور اس لیے بھی (دریا کو تمہارے اختیار میں کیا) کہ تم خدا کے فضل سے (معاش) تلاش کرو تاکہ اس کا شکر کرو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔