اسراء · 100/111
ترجمہ تلفظ — اسراء
قُل لَّوْ أَنتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لَّأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْإِنفَاقِ ۚ وَكَانَ الْإِنسَانُ قَتُورًا ۝١٠٠
Qul law antum tamlikoona khazaaa`ina rahmati Rabbeee izal la amsaktum khash yatal infaaq; wa kaanal insaanu qatooraa
📖 اردو ترجمہ
کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے تو تم خرچ ہوجانے کے خوف سے (ان کو) بند رکھتے۔ اور انسان دل کا بہت تنگ ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي: میرے رب کی رحمت کے خزانے، یعنی اس کے رزق اور نعمتوں کے ذخیرے۔
  • لَأَمْسَكْتُمْ: تم ضرور روک لیتے، بخل کرتے۔
  • خَشْيَةَ الْإِنفَاقِ: خرچ کرنے کے ڈر سے، یعنی خوف کہ کہیں ختم نہ ہو جائے۔
  • قَتُورًا: بہت بخیل، تنگ دل، جو کسی کو کچھ نہ دے۔

تفسیر:

اے نبی! آپ ان مشرکین سے فرما دیجیے کہ اگر ان کے پاس میرے رب کی رحمت کے وہ خزانے بھی ہوتے جو کبھی ختم نہیں ہوتے اور نہ گھٹتے ہیں، تب بھی وہ انہیں خرچ کرنے سے ڈرتے اور انہیں روکے رکھتے، کیونکہ انہیں اندیشہ ہوتا کہ کہیں خرچ کرنے سے یہ ختم نہ ہو جائیں اور وہ خود محتاج نہ ہو جائیں۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ بخل کرتا ہے اور جو کچھ اس کے پاس ہوتا ہے اسے روکے رکھتا ہے، سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ ایمان کی دولت سے نوازے اور وہ اللہ کے ثواب کی امید پر خرچ کرے۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمیں اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت اور اس کے فضل کے خزانوں پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ خود کہتا ہے کہ اس کے خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے، تو ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے مال میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کریں، کیونکہ جو اللہ کی راہ میں خرچ ہوتا ہے، اللہ اس کی جگہ اور زیادہ دیتا ہے۔ بخل اور تنگ دلی انسان کی کمزوری ہے، لیکن ایمان والا شخص اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے اور جانتا ہے کہ رزق دینے والا اللہ ہے، اس لیے وہ فیاضی اور سخاوت سے کام لیتا ہے۔ آئیے ہم اپنے دلوں سے بخل کو نکالیں اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی عادت ڈالیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ خرچ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور انہیں بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 98-102 — اسراء

98ذَٰلِكَ جَزَاؤُهُم بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا وَقَالُوا أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِيدًا
یہ ان کی سزا ہے اس لئے کہ وہ ہماری آیتوں سے کفر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جب ہم (مر کر بوسیدہ) ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا کئے جائیں گے
99۞ أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ قَادِرٌ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَجَعَلَ لَهُمْ أَجَلًا لَّا رَيْبَ فِيهِ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُورًا
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اس بات پر قادر ہے کہ ان جیسے (لوگ) پیدا کردے۔ اور اس نے ان کے لئے ایک وقت مقرر کر دیا ہے جس میں کچھ بھی شک نہیں۔ تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا (اسے) قبول نہ کیا
100قُل لَّوْ أَنتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لَّأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْإِنفَاقِ ۚ وَكَانَ الْإِنسَانُ قَتُورًا
کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے تو تم خرچ ہوجانے کے خوف سے (ان کو) بند رکھتے۔ اور انسان دل کا بہت تنگ ہے
101وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَىٰ تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ ۖ فَاسْأَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذْ جَاءَهُمْ فَقَالَ لَهُ فِرْعَوْنُ إِنِّي لَأَظُنُّكَ يَا مُوسَىٰ مَسْحُورًا
اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی نشانیاں دیں تو بنی اسرائیل سے دریافت کرلو کہ جب وہ ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا کہ موسیٰ میں خیال کرتا ہوں کہ تم پر جادو کیا گیا ہے
102قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَنزَلَ هَٰؤُلَاءِ إِلَّا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ بَصَائِرَ وَإِنِّي لَأَظُنُّكَ يَا فِرْعَوْنُ مَثْبُورًا
انہوں نے کہا کہ تم یہ جانتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے پروردگار کے سوا ان کو کسی نے نازل نہیں کیا۔ (اور وہ بھی تم لوگوں کے) سمجھانے کو۔ اور اے فرعون میں خیال کرتا ہوں کہ تم ہلاک ہوجاؤ گے
اسراءقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
100آیت

ترجمہ — اسراء 100

سورہ اسراء آیت 100 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے…

سورہ آیت 100/111 — اسراء الإسراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اسراء سنیں, اسراء ترجمہ, اسراء mp3, اسراء pdf. آیت 98–102. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں