Wa qul li`ibaadee yaqoolul latee hiya ahsan; innash shaitaana yanzaghu bainahum; innash shaitaana kaana lil insaani `aduwwam mubeenaa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ (لوگوں سے) ایسی باتیں کہا کریں جو بہت پسندیدہ ہوں۔ کیونکہ شیطان (بری باتوں سے) ان میں فساد ڈلوا دیتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و به بندگان من بگو كه با يكديگر به بهترين وجه سخن بگويند، كه شيطان در ميان آنها به فتنهگرى است، زيرا شيطان آدمى را دشمنى آشكار است.
اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ (لوگوں سے) ایسی باتیں کہا کریں جو بہت پسندیدہ ہوں۔ کیونکہ شیطان (بری باتوں سے) ان میں فساد ڈلوا دیتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
يَنْزَغُ: پھسلاتا ہے، بھڑکاتا ہے، فساد ڈالتا ہے۔
عَدُوًّا مُّبِينًا: کھلا دشمن، ظاہر دشمن۔
تفسیر:
اے نبی! میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ ایک دوسرے سے (اور دوسروں سے بھی) ہمیشہ وہ بات کریں جو سب سے بہتر اور حسین ہو۔ یعنی ان کی زبان پر ہمیشہ نرم، پاکیزہ، سچی اور بھلی بات آئے، چاہے سامنے والا انہیں ایذا ہی کیوں نہ پہنچا رہا ہو۔ کیونکہ جب بندہ بری یا تلخ بات کہتا ہے تو شیطان اس موقع کو غنیمت سمجھ کر ان کے درمیان بغض، عداوت اور جھگڑے کی آگ بھڑکا دیتا ہے، اور پھر معاملہ بگڑ کر رہ جاتا ہے۔ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے، وہ کبھی انسان کی بھلائی نہیں چاہتا، وہ تو بس یہ چاہتا ہے کہ لوگ آپس میں لڑیں، ایک دوسرے کو تکلیف دیں اور اس طرح ان کی دنیا بھی خراب ہو اور آخرت بھی۔
یہ حکم اس وقت آیا جب مشرکین مکہ مسلمانوں کو بہت ستاتے تھے اور مسلمانوں نے شکایت کی تو اللہ نے فرمایا کہ تم انہیں برا بھلا کہہ کر جواب نہ دو، بلکہ ان سے بھی اچھی بات کرو، ان کے لیے دعا کرو کہ اللہ تمہیں ہدایت دے۔ یہ مسلمان کا اعلیٰ اخلاق ہے کہ وہ برائی کا جواب بھلائی سے دے، کیونکہ اس طرح دشمن بھی دوست بن سکتا ہے اور شیطان کو موقع نہیں ملتا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتا ہے کہ مسلمان کی زبان ہمیشہ نرم اور شیریں ہونی چاہیے۔ ایک مسلمان کبھی تلخ کلامی نہیں کرتا، چاہے اسے کتنا ہی غصہ کیوں نہ آئے۔ یاد رکھو! ایک اچھی بات، ایک مسکراہٹ، ایک نرم لہجہ دلوں کو جوڑ دیتا ہے، جبکہ ایک تلخ لفظ خاندانوں اور معاشروں کو تباہ کر دیتا ہے۔ شیطان ہمیشہ اس تاک میں رہتا ہے کہ کسی ایک لفظ سے فساد کھڑا کر دے، اس لیے ہمیں اپنی زبان پر قابو رکھنا چاہیے اور ہر معاملے میں وہ بات کہنی چاہیے جو سب سے بہتر ہو۔ یہی تقویٰ کی علامت ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں جنت تک پہنچاتا ہے۔ اللہ ہمیں اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
یا کوئی اور چیز جو تمہارے نزدیک (پتھر اور لوہے سے بھی) بڑی (سخت) ہو (جھٹ کہیں گے) کہ (بھلا) ہمیں دوبارہ کون جِلائے گا؟ کہہ دو کہ وہی جس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا۔ تو (تعجب سے) تمہارے آگے سرہلائیں گے اور پوچھیں گے کہ ایسا کب ہوگا؟ کہہ دو کہ امید ہے جلد ہوگا
اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ (لوگوں سے) ایسی باتیں کہا کریں جو بہت پسندیدہ ہوں۔ کیونکہ شیطان (بری باتوں سے) ان میں فساد ڈلوا دیتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔