تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمہارے لئے دریا میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کے فضل سے (روزی) تلاش کرو۔ بےشک وہ تم پر مہربان ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
يُزْجِي: چلاتا ہے، روانہ کرتا ہے۔
الْفُلْكَ: کشتیاں، جہاز۔
لِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ: تاکہ تم اس کا فضل (رزق) تلاش کرو۔
تفسیر:
اے لوگو! تمہارا رب وہی ہے جو تمہارے لیے سمندر میں کشتیوں کو روانہ کرتا ہے۔ وہ انہیں تمہارے تابع کر دیتا ہے تاکہ تم اپنی تجارت اور سفر کے ذریعے اس کا رزق حاصل کرو۔ یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لیے یہ ذرائع آسان کیے، ورنہ سمندر کی ہولناک موجوں میں سفر کرنا انسان کے بس کی بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ تم پر بے حد مہربان ہے، اسی لیے اس نے تمہیں یہ سہولتیں عطا فرمائیں تاکہ تم اپنی روزی حاصل کرو اور اپنی زندگی کی ضروریات پوری کرو۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کا ذکر کر کے بندوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔ جب تم سمندر میں کشتی کو چلتے دیکھو تو یاد کرو کہ یہ اللہ کی قدرت ہے، اس کی رحمت ہے جو تمہارے ساتھ ہے۔ وہ تمہیں رزق دینے کا انتظام کرتا ہے، تمہاری ضروریات پوری کرتا ہے، پھر بھی تم اس کی عبادت کیوں نہیں کرتے؟ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو، اس کی اطاعت کرو، اور اپنی زندگیوں کو اس کے حکم کے مطابق ڈھالو۔ اللہ کی رحمت کا تقاضا ہے کہ ہم اس کے احکام پر عمل کریں اور اس کی عبادت میں کوتاہی نہ کریں۔ یاد رکھو، جس رب نے سمندر میں تمہارے لیے راستے بنائے، وہی تمہیں قیامت کے دن بھی اپنی رحمت سے نوازے گا اگر تم اس پر ایمان لاؤ اور نیک عمل کرو۔
اور ان میں سے جس کو بہکا سکے اپنی آواز سے بہکاتا رہ۔ اور ان پر اپنے سواروں اور پیاروں کو چڑھا کر لاتا رہ اور ان کے مال اور اولاد میں شریک ہوتا رہ اور ان سے وعدے کرتا رہ۔ اور شیطان جو وعدے ان سے کرتا ہے سب دھوکا ہے
اور جب تم کو دریا میں تکلیف پہنچتی ہے (یعنی ڈوبنے کا خوف ہوتا ہے) تو جن کو تم پکارا کرتے ہو سب اس (پروردگار) کے سوا گم ہوجاتے ہیں۔ پھر جب وہ تم کو (ڈوبنے سے) بچا کر خشکی پر لے جاتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان ہے ہی ناشکرا
کیا تم (اس سے) بےخوف ہو کہ خدا تمہیں خشکی کی طرف (لے جا کر زمین میں) دھنسا دے یا تم پر سنگریزوں کی بھری ہوئی آندھی چلادے۔ پھر تم اپنا کوئی نگہبان نہ پاؤ
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔