ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَهْلَهُ: اس سے مراد ان کی قوم، امت اور گھر والے ہیں۔
- بِالصَّلَاةِ: نماز قائم کرنے کا حکم۔
- الزَّكَاةِ: فرض زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم۔
- مَرْضِيًّا: اللہ کے نزدیک پسندیدہ اور مقبول۔
تفسیر:
حضرت اسماعیل علیہ السلام کی تعریف میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ اپنے اہلِ خانہ اور اپنی امت کو نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیتے تھے۔ وہ صرف خود عبادت پر اکتفا نہیں کرتے تھے، بلکہ اپنے گھر والوں اور اپنی قوم کو بھی اللہ کی اطاعت اور فرائض کی ادائیگی کی تلقین کرتے تھے۔ ان کی یہ دعوت اور تعلیم اس قدر خالص اور مخلصانہ تھی کہ وہ اپنے رب کے نزدیک مکمل طور پر پسندیدہ اور مقبول تھے۔ ان کا طرزِ عمل یہ تھا کہ وہ صرف حکم دینے پر اکتفا نہیں کرتے تھے، بلکہ خود بھی ان احکام پر عمل پیرا تھے، اس لیے اللہ نے انہیں اپنی رضا اور خوشنودی سے نوازا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک عظیم سبق ملتا ہے کہ ایک مومن کی ذمہ داری صرف اپنی اصلاح تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ اسے اپنے گھر والوں اور اپنی قوم کو بھی نیکی اور تقویٰ کی دعوت دینی چاہیے۔ جس طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام اپنے اہل کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے، اسی طرح ہمیں بھی اپنے گھر والوں کو نماز کی پابندی اور زکوٰۃ کی ادائیگی کی تلقین کرنی چاہیے۔ یاد رکھیں! جو شخص اپنے گھر والوں کو نیکی کی دعوت دیتا ہے اور خود بھی اس پر عمل کرتا ہے، وہ اللہ کے نزدیک محبوب اور پسندیدہ بن جاتا ہے۔ آئیے ہم بھی اپنے گھروں کو نماز اور زکوٰۃ کی برکتوں سے معمور کریں، تاکہ ہم بھی اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کر سکیں۔
📜 آیت 53-57 — مریم
ترجمہ — مریم 55
سورہ مریم آیت 55 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰة کا حکم…سورہ آیت 55/98 — مریم مريم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مریم سنیں, مریم ترجمہ, مریم mp3, مریم pdf. آیت 53–57. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








