مریم · 90/98
ترجمہ تلفظ — مریم
تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا ۝٩٠
Takaadus samaawaatu yatafattarna minhu wa tanshaq qul ardu wa takhirrul jibaalu haddaa
📖 اردو ترجمہ
قریب ہے کہ اس (افتراء) سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ پارہ پارہ ہو کر گر پڑیں
📜

ترجمہ — Tafsir

تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا

معانی الفاظ:

  • يَتَفَطَّرْنَ: پھٹ جائیں، شگافتہ ہو جائیں۔
  • تَنشَقُّ: پھٹ جائے، ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔
  • تَخِرُّ: گر پڑیں، ٹوٹ کر گر جائیں۔
  • هَدًّا: شدت سے گرنا، ڈھے جانا، پے در پے گرنا۔

تفسیر:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اُس عظیم جرم اور قبیح قول کی ہولناکی کو بیان فرمایا ہے جو مشرکین اور کفار کی زبان سے صادر ہوتا ہے، یعنی ان کا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ہے۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ یہ قولِ کفر اتنا بھیانک اور سخت ہے کہ اس کی وجہ سے آسمان قریب ہوتے ہیں کہ پھٹ پڑیں، زمین شق ہو جائے اور پہاڑ شدت کے ساتھ گر کر ڈھیر ہو جائیں۔

یہ اس بات کا اظہار ہے کہ یہ کلمہ کس قدر ناپسندیدہ اور غضبِ الٰہی کا باعث ہے۔ ساری کائنات اس قول سے لرز اٹھتی ہے، کیونکہ یہ اللہ کی ذاتِ اقدس کے بارے میں ادب کے خلاف اور اس کی تنزیہ کے منافی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز سے پاک ہے جو مشرکین بیان کرتے ہیں۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے مبالغے کے انداز میں فرمایا کہ یہ قول اتنا سنگین ہے کہ اگر آسمان و زمین اور پہاڑوں میں شعور ہوتا تو وہ اسے سن کر تباہ ہو جاتے۔ یہ دراصل اس جرم کی شناعت اور برائی کو ظاہر کرنے کے لیے ہے، تاکہ بندے اس سے بچیں اور اللہ کی ذات کے بارے میں ادب کا دامن نہ چھوڑیں۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں ہر قسم کے غلط عقائد سے بچنا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کو اس کی شان کے لائق سمجھیں، اس کی تنزیہ کریں اور اس کے بارے میں ایسی کوئی بات نہ کریں جو اس کی عظمت کے منافی ہو۔ یہ آیت ہمیں اللہ کی محبت اور خشیت کا درس دیتی ہے کہ جب کائنات اس قول سے لرزتی ہے تو ہمیں بھی اپنے ایمان کی حفاظت کرنی چاہیے اور ہر اس چیز سے دور رہنا چاہیے جو اللہ کے غضب کا باعث ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح عقیدہ اور سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 88-92 — مریم

88وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَٰنُ وَلَدًا
اور کہتے ہیں کہ خدا بیٹا رکھتا ہے
89لَّقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا
(ایسا کہنے والو یہ تو) تم بری بات (زبان پر) لائے ہو
90تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا
قریب ہے کہ اس (افتراء) سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ پارہ پارہ ہو کر گر پڑیں
91أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَٰنِ وَلَدًا
کہ انہوں نے خدا کے لئے بیٹا تجویز کیا
92وَمَا يَنبَغِي لِلرَّحْمَٰنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا
اور خدا کو شایاں نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے
مریمقرآن فہرست
98آیت
مکیRevelation
90آیت

ترجمہ — مریم 90

سورہ مریم آیت 90 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : قریب ہے کہ اس (افتراء) سے آسمان پھٹ پڑیں اور…

سورہ آیت 90/98 — مریم مريم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مریم سنیں, مریم ترجمہ, مریم mp3, مریم pdf. آیت 88–92. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں