بقرہ · 55/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَىٰ لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْكُمُ الصَّاعِقَةُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ ۝٥٥
Wa iz qultum yaa Moosaa lan nu`mina laka hattaa naral laaha jahratan fa akhazat kumus saa`iqatu wa antum tanzuroon
📖 اردو ترجمہ
اور جب تم نے (موسیٰ) سے کہا کہ موسیٰ، جب تک ہم خدا کو سامنے نہ دیکھ لیں گے، تم پر ایمان نہیں لائیں گے، تو تم کو بجلی نے آ گھیرا اور تم دیکھ رہے تھے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • جَہْرَةً: کھلم کھلا، آنکھوں سے دیکھنا، بلا کسی حجاب کے۔
  • صَاعِقَة: آسمانی آگ یا عذاب، جو کڑک کے ساتھ نازل ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان کی تاریخ کے ایک اہم سبق کی یاد دلاتا ہے، جب بنی اسرائیل نے اپنے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا: "اے موسیٰ! ہم تم پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے، یہاں تک کہ ہم اللہ کو کھلم کھلا آنکھوں سے دیکھ لیں۔" یہ ان کی بڑی جسارت اور گستاخی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کر رہے تھے، حالانکہ دنیا میں کسی بھی انسان نے اللہ کو نہیں دیکھا اور نہ دیکھ سکتا ہے۔

یہ مطالبہ سن کر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا، ایک زبردست آسمانی آگ اور کڑک نے انہیں آ لیا، اور وہ سب کے سب ہلاک ہو گئے، یہاں تک کہ وہ اپنی آنکھوں سے اپنے سامنے اپنے ساتھیوں کی موت دیکھ رہے تھے۔ یہ ان کی سرکشی اور اللہ کے ساتھ گستاخی کا نتیجہ تھا۔

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی اطاعت اور ان پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہے، اور جو لوگ اپنی ضد اور تکبر کی وجہ سے اللہ کے احکام کو چیلنج کرتے ہیں، انہیں اللہ کا عذاب ضرور پکڑتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بلا کسی شک و شبہ کے مان لیں، کیونکہ اللہ کی ہر بات حق ہے۔

یہ واقعہ ہمارے لیے ایک نصیحت ہے کہ ہم اپنے دلوں کو عاجزی اور انکساری سے بھریں، اللہ کی عظمت کا احساس کریں، اور اس کے احکام پر بلا چون و چرا عمل کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، لیکن اس کی نافرمانی کرنے والوں کے لیے اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے۔ آئیے ہم اس واقعہ سے سبق حاصل کریں اور اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اور اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں صبر اور اطاعت کی توفیق عطا فرمائے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 53-57 — بقرہ

53وَإِذْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَالْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ
اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور معجزے عنایت کئے، تاکہ تم ہدایت حاصل کرو
54وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنفُسَكُم بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوبُوا إِلَىٰ بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ عِندَ بَارِئِكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۚ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ بھائیو، تم نے بچھڑے کو (معبود) ٹھہرانے میں (بڑا) ظلم کیا ہے، تو اپنے پیدا کرنے والے کے آگے توبہ کرو اور اپنے تئیں ہلاک کر ڈالو۔ تمہارے خالق کے نزدیک تمہارے حق میں یہی بہتر ہے۔ پھر اس نے تمہارا قصور معاف کر دیا۔ وہ بے شک معاف کرنے والا (اور) صاحبِ رحم ہے
55وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَىٰ لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْكُمُ الصَّاعِقَةُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ
اور جب تم نے (موسیٰ) سے کہا کہ موسیٰ، جب تک ہم خدا کو سامنے نہ دیکھ لیں گے، تم پر ایمان نہیں لائیں گے، تو تم کو بجلی نے آ گھیرا اور تم دیکھ رہے تھے
56ثُمَّ بَعَثْنَاكُم مِّن بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
پھر موت آ جانے کے بعد ہم نے تم کو ازسرِ نو زندہ کر دیا، تاکہ احسان مانو
57وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَىٰ ۖ كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ ۖ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَٰكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
اور بادل کا تم پر سایہ کئے رکھا اور (تمہارے لیے) من و سلویٰ اتارتے رہے کہ جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائی ہیں، ان کو کھاؤ (پیو) مگر تمہارے بزرگوں نے ان نعمتوں کی کچھ قدر نہ جانی (اور) وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑتے تھے بلکہ اپنا ہی نقصان کرتے تھے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
55آیت

ترجمہ — بقرہ 55

سورہ بقرہ آیت 55 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب تم نے (موسیٰ) سے کہا کہ موسیٰ، جب…

سورہ آیت 55/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 53–57. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں