ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- لَا يَصُدَّنَّكَ: تجھے روک نہ دے، باز نہ رکھے۔
- عَنْهَا: اس (قیامت اور آخرت کی تیاری) سے۔
- اتَّبَعَ هَوَاهُ: اپنی نفسانی خواہشات کا پیروکار بن گیا۔
- فَتَرْدَىٰ: پس تو ہلاک ہو جائے گا۔
تفسیر:
اے موسیٰ! تجھے اس بات سے کوئی نہ روکے کہ تو قیامت پر ایمان لائے اور اس کے لیے عمل صالح کے ذریعے تیاری کرے۔ وہ لوگ جو قیامت پر ایمان نہیں رکھتے اور جنہوں نے اپنی نفسانی خواہشات کو اپنا معبود بنا لیا ہے، وہ تجھے اس راستے سے ہٹانے کی کوشش کریں گے۔ ان کی باتوں پر ہرگز مت جھکنا، کیونکہ اگر تو نے ان کی پیروی کی اور ایمان اور عمل صالح سے منہ موڑا تو تو ہلاکت میں پڑ جائے گا۔
یہاں اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تنبیہ فرما رہے ہیں کہ کافروں کی مخالفت اور ان کے بہکانے سے ثابت قدم رہیں۔ یہی حکم امت محمدیہ کے لیے بھی ہے کہ ہم قیامت کے یقین اور آخرت کی تیاری سے کبھی غافل نہ ہوں، چاہے مخالفین کتنے ہی زیادہ اور طاقتور کیوں نہ ہوں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ایمان بالآخرت ہی وہ مضبوط بنیاد ہے جو انسان کو گناہوں سے روکتی ہے اور نیکیوں کی طرف راغب کرتی ہے۔ جو لوگ آخرت پر یقین رکھتے ہیں، وہ دنیا کی فانی لذتوں سے بے نیاز ہو کر اللہ کی رضا کے طالب بن جاتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اردگرد کے ان لوگوں سے بچیں جو ہمیں آخرت سے غافل کرنا چاہتے ہیں، اور ہمیشہ اس فکر میں رہیں کہ ہمارا اصل گھر آخرت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ثابت قدمی عطا فرمائے اور ہمارے دلوں میں آخرت کی فکر پیدا کرے۔ آمین۔
📜 آیت 14-18 — طہ
ترجمہ — طہ 16
سورہ طہ آیت 16 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو جو شخص اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی…سورہ آیت 16/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 14–18. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








