ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- بَالُ: حال، شان، یا حالت۔
- الْقُرُونِ الْأُولَىٰ: پہلی امتیں، گزشتہ قومیں۔
تفسیر:
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو توحید اور آخرت کا پیغام دیا اور اسے اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو فرعون نے اپنی ہٹ دھرمی اور تکبر کے ساتھ یہ سوال کیا: "پھر پہلی قوموں کا کیا حال ہے؟" اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ موسیٰ علیہ السلام کے دعوے کو مشتبہ کرے اور کہے کہ اگر تمہارا پیغام سچا ہے تو ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو پہلے گزر چکے ہیں؟ وہ اپنے اس سوال سے یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ ان قوموں نے بھی انکار کیا تھا، پھر ان کا کیا بنے گا؟ گویا وہ موسیٰ علیہ السلام کے پیغام کو رد کرنے کے لیے ماضی کی قوموں کا حوالہ دے رہا تھا۔
یہ سوال دراصل فرعون کی جہالت اور عناد کا مظہر تھا، کیونکہ وہ حقیقت کو جاننا نہیں چاہتا تھا، بلکہ صرف بحث و تکرار کرنا چاہتا تھا۔ وہ آخرت کا انکار کرتا تھا اور یہ سمجھتا تھا کہ ماضی کی قوموں کے بارے میں سوال کر کے وہ موسیٰ علیہ السلام کو الجھا سکے گا۔ لیکن موسیٰ علیہ السلام نے جواب میں اسے یاد دلایا کہ ان قوموں کا علم اللہ کے پاس ہے اور وہی سب کچھ جانتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ حق کو ماننے میں تاخیر اور حیلے بہانے تلاش کرنا شیطانی طریقہ ہے۔ فرعون جیسے لوگ جب حق کے سامنے آتے ہیں تو وہ سوالات کر کے راہ فرار تلاش کرتے ہیں، لیکن مومن کا طرز عمل یہ ہے کہ وہ حق سنتے ہی اسے قبول کر لیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دل کو کھلا رکھیں اور جب ہمارے سامنے حق آئے تو اسے فوراً قبول کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور وہی ہم سب کا حاکم ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت میں کامیابی تک پہنچاتا ہے۔
📜 آیت 49-53 — طہ
ترجمہ — طہ 51
سورہ طہ آیت 51 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کہا تو پہلی جماعتوں کا کیا حال؟سورہ آیت 51/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 49–53. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








