طہ · 77/135
ترجمہ تلفظ — طہ
وَلَقَدْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا لَّا تَخَافُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَىٰ ۝٧٧
Wa laqad awhainaaa ilaa Moosaaa an asri bi`ibaadee fadrib lahum tareeqan fil bahri yabasal laa takhaafu darakanw wa laa takhshaa
📖 اردو ترجمہ
اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ پھر ان کے لئے دریا میں (لاٹھی مار کر) خشک رستہ بنا دو پھر تم کو نہ تو (فرعون کے) آپکڑنے کا خوف ہوگا اور نہ (غرق ہونے کا) ڈر

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أَسْرِ: رات کے وقت چلنا، رات میں سفر کرنا۔
  • فَاضْرِبْ: مارنا، یہاں مراد یہ ہے کہ عصا سے سمندر پر ضرب لگانا۔
  • يَبَسًا: خشک زمین، جہاں نہ پانی ہو نہ کیچڑ۔
  • دَرَكًا: پکڑے جانا، پیچھے سے دشمن کا آ لینا۔
  • تَخْشَىٰ: ڈرنا، خوف کھانا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وحی کے ذریعے حکم دیا کہ وہ رات کے وقت بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر لے جائیں، تاکہ فرعون اور اس کی فوج کو ان کے جانے کا علم نہ ہو۔ جب وہ سمندر کے کنارے پہنچے اور فرعون کا لشکر پیچھے سے آتا دکھائی دیا، تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ اپنی عصا سمندر پر ماریں۔ چنانچہ جب انہوں نے عصا مارا تو سمندر پھٹ گیا اور بارہ راستے بن گئے، ہر راستہ خشک زمین کی طرح صاف اور تیار تھا، جس میں نہ پانی تھا نہ کیچڑ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تسلی دی کہ انہیں نہ فرعون کے پیچھے سے آنے کا خوف ہو، کیونکہ اللہ انہیں بچانے والا ہے، اور نہ سمندر میں ڈوبنے کا اندیشہ ہو، کیونکہ اللہ نے ان کے لیے راستہ خشک کر دیا ہے۔

یہ اللہ کی عظیم قدرت کا مظہر تھا کہ بہتے ہوئے سمندر میں خشک راستہ بن گیا، اور بنی اسرائیل محفوظ طور پر پار نکل گئے۔ یہ واقعہ اللہ کی اپنے بندوں پر رحمت اور فرعون کی ذلت کی نشانی ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کی ہمیشہ مدد کرتا ہے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔ جب بندہ اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اور اس کے حکم پر عمل کرتا ہے، تو اللہ اس کے لیے ایسے راستے کھول دیتا ہے جو عقل و تدبیر سے باہر ہوتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے ایک بڑا سمندر تھا اور پیچھے فرعون کا ظالم لشکر، لیکن اللہ نے اپنے بندے کو نہ صرف بچایا بلکہ اسے عزت بھی عطا کی۔ آج بھی جو شخص اللہ کی راہ میں نکلتا ہے، اللہ اسے کامیابی دیتا ہے اور اس کے دشمنوں کو ذلیل کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہر مشکل میں اللہ پر بھروسہ کریں اور اس کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، کیونکہ اللہ ہر مشکل کو آسان کرنے پر قادر ہے۔



📜 آیت 75-79 — طہ

75وَمَن يَأْتِهِ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصَّالِحَاتِ فَأُولَٰئِكَ لَهُمُ الدَّرَجَاتُ الْعُلَىٰ
اور جو اس کے روبرو ایماندار ہو کر آئے گا اور عمل بھی نیک کئے ہوں گے تو ایسے لوگوں کے لئے اونچے اونچے درجے ہیں
76جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَاءُ مَن تَزَكَّىٰ
(یعنی) ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ اور یہ اس شخص کا بدلہ ہے جو پاک ہوا
77وَلَقَدْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا لَّا تَخَافُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَىٰ
اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ پھر ان کے لئے دریا میں (لاٹھی مار کر) خشک رستہ بنا دو پھر تم کو نہ تو (فرعون کے) آپکڑنے کا خوف ہوگا اور نہ (غرق ہونے کا) ڈر
78فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُودِهِ فَغَشِيَهُم مِّنَ الْيَمِّ مَا غَشِيَهُمْ
پھر فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا تعاقب کیا تو دریا (کی موجوں) نے ان پر چڑھ کر انہیں ڈھانک لیا (یعنی ڈبو دیا)
79وَأَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهُ وَمَا هَدَىٰ
اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کردیا اور سیدھے رستے پر نہ ڈالا
طہقرآن فہرست
135آیت
مکیRevelation
77آیت

ترجمہ — طہ 77

سورہ طہ آیت 77 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے…

سورہ آیت 77/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 75–79. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں