قوم سوء: بری اور فاسد قوم، شر اور بُرائی میں ڈوبی ہوئی جماعت۔
اغرقناہم: ہم نے انہیں غرق کر دیا، پانی میں ڈبو کر ہلاک کر دیا۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں ارشاد فرما رہے ہیں کہ ہم نے انہیں اس قوم کے شر اور مکر سے نجات دی، جنہوں نے ہماری نشانیوں اور معجزات کو جھٹلایا تھا۔ یہ قوم اپنی سرکشی اور ضدی پن میں حد سے بڑھ گئی تھی، وہ نبی کی دعوت کو ماننے کے بجائے جھٹلانے اور ایذاء دینے پر تُلی ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لوگ واقعی قومِ سوء تھے، یعنی ان کی طبیعت میں خیر کا کوئی پہلو باقی نہیں رہا تھا، وہ شر اور فساد میں ڈوب چکے تھے۔ چنانچہ جب انہوں نے حق کو جھٹلانے اور ظلم پر اصرار کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی، تو اللہ نے انہیں طوفان کے ذریعے غرق کر کے ہلاک کر دیا، یہاں تک کہ کوئی ایک فرد بھی باقی نہ بچا۔
اس واقعے میں عبرت ہے کہ جب کوئی قوم حق کو جھٹلاتی ہے اور شر پر ڈٹ جاتی ہے، تو اللہ کی پکڑ بہت سخت ہوتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی درس ہے کہ اللہ اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے اور انہیں ظالموں کے شر سے نجات دیتا ہے۔ یہ آیت مومنین کے لیے تسلی کا پیغام ہے کہ وہ کبھی مایوس نہ ہوں، چاہے مخالفین کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں، اللہ کی مدد اہلِ ایمان کے ساتھ ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھیں کہ اللہ کی رحمت کے ساتھ ساتھ اس کا عذاب بھی بہت قریب ہے، اس لیے ہمیں ہمیشہ حق پر قائم رہنا چاہیے اور اپنی زندگی کو شر اور فساد سے پاک رکھنا چاہیے۔
اور نوح (کا قصہ بھی یاد کرو) جب (اس سے) پیشتر انہوں نے ہم کو پکارا تو ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کو اور ان کے ساتھیوں کو بڑی گھبراہٹ سے نجات دی
اور داؤد اور سلیمان (کا حال بھی سن لو کہ) جب وہ ایک کھیتی کا مقدمہ فیصلہ کرنے لگے جس میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کو چر گئی (اور اسے روند گئی) تھیں اور ہم ان کے فیصلے کے وقت موجود تھے
تو ہم نے فیصلہ (کرنے کا طریق) سلیمان کو سمجھا دیا۔ اور ہم نے دونوں کو حکم (یعنی حکمت ونبوت) اور علم بخشا تھا۔ اور ہم نے پہاڑوں کو داؤد کا مسخر کردیا تھا کہ ان کے ساتھ تسبیح کرتے تھے اور جانوروں کو بھی (مسخر کردیا تھا اور ہم ہی ایسا) کرنے والے تھے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔