ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- سِخْرِیًّا: مذاق اڑانا، استہزاء کرنا، ٹھٹھا کرنا۔
- أَنسَوْکُمْ: بھلا دیا تمہیں، فراموش کرا دیا۔
- ذِکْرِی: میری یاد، میرا ذکر۔
- تَضْحَکُونَ: ہنستے تھے، مذاق اڑاتے تھے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں اہلِ ایمان کے بارے میں کافروں کے رویے کا ذکر فرما رہے ہیں۔ جب نبی اور اہلِ ایمان لوگوں کو حق کی طرف بلاتے تھے، تو کافر انہیں حقیر سمجھتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ وہ ان غریب اور کمزور مسلمانوں کو ٹھٹھے کا نشانہ بناتے تھے، ان پر ہنستے تھے اور ان کی حالت کو مسخرہ پن کا ذریعہ بناتے تھے۔ یہ استہزاء اتنا بڑھ گیا کہ ان کے دلوں سے اللہ کا ذکر ہی نکل گیا۔ وہ اللہ کی یاد، اس کی عبادت اور اس کے احکام سے غافل ہو گئے، کیونکہ ان کا سارا وقت اور ساری توجہ مومنین کی تضحیک اور ان کے خلاف چہل قدمی میں صرف ہو رہی تھی۔ وہ ان مومنین کو حقیر سمجھتے تھے، حالانکہ حقیقت میں یہی مومنین اللہ کے نزدیک عزت والے تھے، اور کافر خود ذلیل و رسوا تھے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمارے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے کہ کسی بھی نیک اور صالح بندے کا مذاق اڑانا، اسے حقیر سمجھنا یا اس پر ہنسنا اللہ کی یاد سے غفلت کا سبب بنتا ہے۔ جو لوگ اللہ کے نیک بندوں کا استہزاء کرتے ہیں، وہ دراصل اپنے دلوں کو اللہ کی یاد سے محروم کر لیتے ہیں، اور یہ محرومی انہیں تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اہلِ ایمان کی عزت کریں، ان کی محبت اپنے دلوں میں رکھیں، اور اللہ کے ذکر کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ یاد رکھیں، اللہ کی یاد ہی دلوں کو سکون دیتی ہے، اور جو لوگ اس سے غافل ہوتے ہیں، وہ آخرت میں پشیمان ہوں گے۔ آج ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاشرے میں کسی کا مذاق نہ اڑائیں، خاص طور پر ان لوگوں کا جو اللہ کی عبادت میں مشغول ہیں، کیونکہ یہ عمل ہمیں اللہ کی رحمت سے دور کر دیتا ہے۔
📜 آیت 108-112 — مؤمنون
ترجمہ — مؤمنون 110
سورہ مؤمنون آیت 110 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو تم ان سے تمسخر کرتے رہے یہاں تک کہ…سورہ آیت 110/118 — مؤمنون المؤمنون (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مؤمنون سنیں, مؤمنون ترجمہ, مؤمنون mp3, مؤمنون pdf. آیت 108–112. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








