ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مِتْنَا: ہم مر گئے۔
- کُنَّا تُرَابًا: ہم مٹی ہو گئے۔
- وَعِظَامًا: اور ہڈیاں (بوسیدہ) ہو گئیں۔
- لَمَبْعُوثُونَ: ضرور اٹھائے جانے والے۔
تفسیر:
یہ کفارِ مکہ کا قول ہے جو انہوں نے بعث بعد الموت کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا۔ انہوں نے استبعاد اور انکار کے انداز میں کہا: "کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے، تو کیا ہم واقعی دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے؟" ان کا خیال تھا کہ مرنے کے بعد انسان کا دوبارہ زندہ ہونا ناممکن اور ناقابلِ تصور ہے۔ انہوں نے اسے محال سمجھا اور اس پر حیرت کا اظہار کیا۔
یہ آیت ان لوگوں کی ذہنیت کو واضح کرتی ہے جو اللہ کی قدرت کو محدود سمجھتے ہیں۔ حالانکہ جس اللہ نے پہلی بار انسان کو عدم سے پیدا کیا، وہ اسے دوبارہ زندہ کرنے پر یقیناً قادر ہے۔ یہ قیامت کا انکار دراصل اللہ کی قدرت اور حکمت کا انکار ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ اس آیت سے سبق حاصل کرے کہ اللہ کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے، اور وہی ہے جو انسانوں کو مرنے کے بعد زندہ کر کے ان کے اعمال کا حساب لے گا۔ یہ ایمان کا ایک بنیادی رکن ہے، جس پر یقین رکھنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قیامت کا یقین انسان کو نیک عمل کی ترغیب دیتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے ہر عمل کا حساب ہوگا۔
📜 آیت 80-84 — مؤمنون
ترجمہ — مؤمنون 82
سورہ مؤمنون آیت 82 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کہتے ہیں کہ جب ہم مر جائیں گے اور مٹی…سورہ آیت 82/118 — مؤمنون المؤمنون (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مؤمنون سنیں, مؤمنون ترجمہ, مؤمنون mp3, مؤمنون pdf. آیت 80–84. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








