فرقان · 30/77
ترجمہ تلفظ — فرقان
وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا ۝٣٠
Wa qaalar Rasoolu yaa Rabbi inna qawmit takhazoo haazal Qur-aana mahjooraa
📖 اردو ترجمہ
اور پیغمبر کہیں گے کہ اے پروردگار میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • مَهْجُورًا: چھوڑا ہوا، ترک کیا ہوا، جس سے کنارہ کشی کی گئی ہو۔

تفسیر آیت:

اس آیتِ کریمہ میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شکایت کو بیان کیا گیا ہے جو وہ قیامت کے دن اپنے رب کے حضور کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرض کریں گے: "اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا، اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔"

یہ شکایت دراصل ان لوگوں کے بارے میں ہوگی جنہوں نے قرآنِ کریم کو قبول کرنے سے انکار کیا، اسے سننے سے بھی منہ موڑا، اس پر غور و فکر نہیں کیا، اور نہ ہی اس پر عمل کیا۔ قریشِ مکہ نے نہ صرف خود قرآن سے اعراض کیا بلکہ دوسروں کو بھی اس کی تلاوت سننے سے روکتے تھے، جیسا کہ دوسری آیات میں مذکور ہے کہ وہ کہتے تھے: "اس قرآن کو نہ سنو اور اس کی تلاوت کے وقت شور مچاؤ۔"

یہاں "ہجرانِ قرآن" سے مراد صرف اسے پڑھنا چھوڑ دینا نہیں، بلکہ اس کی تلاوت، تدبر، عمل، تبلیغ اور اس کے احکام کو اپنانے سے یکسر کنارہ کشی اختیار کرنا ہے۔ قرآنِ کریم کو پس پشت ڈال دینا، اس کے فیصلوں کو قبول نہ کرنا، اور اس کی تعلیمات کو زندگی میں نافذ نہ کرنا بھی اسی "ہجران" کے زمرے میں آتا ہے۔

یہ آیتِ کریمہ ہر اس شخص کے لیے ایک شدید تنبیہ اور ڈر ہے جو قرآنِ کریم سے غفلت برتتا ہے، اسے صرف رسمی طور پر پڑھتا ہے مگر اس پر عمل نہیں کرتا، یا اسے سننے اور سمجھنے سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے۔ اگر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قوم کی اس روش پر رب کے حضور شکایت کرنی پڑی، تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ آج ہم میں سے کتنے لوگ اس قرآن کو حقیقی معنوں میں اپنایا ہوا ہے؟

دعوتی پہلو:

پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمارے لیے ایک بیدار کرنے والی گھنٹی ہے۔ آج ہم میں سے بہت سے لوگ قرآنِ کریم کو صرف برکت کے لیے پڑھتے ہیں، یا محض ثواب حاصل کرنے کے لیے تلاوت کرتے ہیں، لیکن اس پر عمل کرنا، اس کی تعلیمات کو سمجھنا، اور اسے اپنی زندگی کا دستور بنانا بھول گئے ہیں۔ کیا ہم نہیں ڈرتے کہ قیامت کے دن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری شکایت رب کے حضور کریں گے؟

آئیے ہم عہد کریں کہ قرآنِ کریم کو صرف تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ ہدایت کی کتاب بنائیں گے۔ اسے روزانہ پڑھیں گے، اس کے معانی سمجھیں گے، اس پر غور کریں گے، اور اس کے احکام کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ یاد رکھیں! قرآن وہ کتاب ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کی راہ دکھاتی ہے۔ جس نے اسے مضبوطی سے تھاما، وہ کبھی گمراہ نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کے ساتھ حقیقی تعلق عطا فرمائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو قرآن کو اپنانے والے اور اس پر عمل کرنے والے ہیں۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 28-32 — فرقان

28يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا
ہائے شامت کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا
29لَّقَدْ أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَنِي ۗ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِلْإِنسَانِ خَذُولًا
اس نے مجھ کو (کتاب) نصیحت کے میرے پاس آنے کے بعد بہکا دیا۔ اور شیطان انسان کو وقت پر دغا دینے والا ہے
30وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا
اور پیغمبر کہیں گے کہ اے پروردگار میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا
31وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِينَ ۗ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ هَادِيًا وَنَصِيرًا
اور اسی طرح ہم نے گنہگاروں میں سے ہر پیغمبر کا دشمن بنا دیا۔ اور تمہارا پروردگار ہدایت دینے اور مدد کرنے کو کافی ہے
32وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً ۚ كَذَٰلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ ۖ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلًا
اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہیں اُتارا گیا۔ اس طرح (آہستہ آہستہ) اس لئے اُتارا گیا کہ اس سے تمہارے دل کو قائم رکھیں۔ اور اسی واسطے ہم اس کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے رہے ہیں
فرقانقرآن فہرست
77آیت
مکیRevelation
30آیت

ترجمہ — فرقان 30

سورہ فرقان آیت 30 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور پیغمبر کہیں گے کہ اے پروردگار میری قوم نے…

سورہ آیت 30/77 — فرقان الفرقان (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: فرقان سنیں, فرقان ترجمہ, فرقان mp3, فرقان pdf. آیت 28–32. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں