ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- كَذَّبُونِ: مجھے جھٹلایا، میری تکذیب کی۔
تفسیر:
حضرت نوح علیہ السلام نے جب اپنی قوم کی طرف سے مکمل طور پر مایوسی دیکھ لی کہ وہ لوگ کسی بھی طرح ایمان لانے والے نہیں، اور ان کی طرف سے طرح طرح کی اذیتیں اور تکلیفیں دی جا رہی ہیں، تو انہوں نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور عرض کیا: "اے میرے رب! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا ہے۔"
یہ دعا دراصل ایک مایوس نبی کی فریاد تھی، جو برسوں تک اپنی قوم کی ہدایت کے لیے کوشش کرتا رہا، لیکن انہوں نے اس کی بات نہ مانی اور اسے جھٹلاتے رہے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے یہ الفاظ اس لیے کہے کہ وہ اپنی بےبسی اور قوم کی سرکشی کو بارگاہِ الٰہی میں پیش کر رہے تھے، تاکہ اللہ تعالیٰ خود ان کے اور ان کی قوم کے درمیان فیصلہ فرمائے۔
اس دعا میں ایک اہم سبق یہ ہے کہ جب انسان اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود کسی کو ہدایت نہ دے سکے تو اسے چاہیے کہ معاملہ اللہ کے سپرد کر دے، کیونکہ ہدایت دینا صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی یہ دعا ان کے صبر اور استقامت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری، بلکہ جب قوم کی طرف سے مکمل انکار ہوا تو اللہ کی بارگاہ میں اپنا معاملہ پیش کر دیا۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ دعا مومن کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ جب انسان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا، تو وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے، اور اللہ اپنے بندے کی دعا کو کبھی رد نہیں کرتا۔ حضرت نوح علیہ السلام کی اس دعا کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کو غرق کر کے ان کی مدد فرمائی، اور انہیں اور ان کے ساتھیوں کو نجات عطا کی۔
یہ دعا ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ حق پر قائم رہنا اور اللہ پر بھروسہ رکھنا کبھی ضائع نہیں ہوتا، چاہے مخالفین کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی ہمیشہ مدد فرماتا ہے، اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
📜 آیت 115-119 — شعراء
ترجمہ — شعراء 117
سورہ شعراء آیت 117 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : نوح نے کہا کہ پروردگار میری قوم نے تو مجھے…سورہ آیت 117/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 115–119. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








