ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- الْقَالِينَ: سخت نفرت کرنے والے، شدید بغض رکھنے والے۔
تفسیر آیت:
حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کی اس گھناؤنی حرکت اور شرمناک عمل کے جواب میں انتہائی صاف اور دو ٹوک انداز میں فرمایا: "میں تمہارے اس عمل سے سخت نفرت کرنے والوں میں سے ہوں۔" یہ کوئی معمولی انکار نہیں تھا، بلکہ ایک شدید بیزاری اور مکمل براءت کا اظہار تھا۔
آپ علیہ السلام نے اپنے قول سے یہ واضح کر دیا کہ یہ عمل نہ صرف گناہ ہے بلکہ ایسی گھناؤنی حرکت ہے جس سے فطرتِ سلیم بھی انکار کرتی ہے اور عقلِ انسانی بھی اسے قبول نہیں کرتی۔ آپ نے اپنے دل کی گہرائی سے اس فعل کو رد کیا اور اپنے آپ کو اس سے مکمل طور پر الگ کیا۔
یہاں حضرت لوط علیہ السلام کا یہ انداز ہر اس شخص کے لیے مشعلِ راہ ہے جو برائی کے خلاف آواز اٹھانا چاہتا ہے۔ آپ نے نہ تو خاموشی اختیار کی اور نہ ہی کسی قسم کی نرمی یا مصلحت کو اپنایا، بلکہ حق کو حق اور باطل کو باطل کہہ کر صاف صاف اعلان کر دیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایک مومن کو چاہیے کہ وہ برائی سے اپنی بیزاری کا اظہار کرے، چاہے اسے کتنی ہی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے۔ حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کے سامنے کھڑے ہو کر حق کا اعلان کیا اور برائی سے اپنی براءت ظاہر کی۔ یہی توحید اور ایمان کا تقاضا ہے کہ انسان اللہ کی نافرمانی سے نفرت کرے اور اس کا اظہار بھی کرے۔
آج کے دور میں بھی جب معاشرے میں بے حیائی اور فحاشی عام ہو رہی ہے، ہمیں حضرت لوط علیہ السلام کے اس انداز سے سبق لینا چاہیے کہ برائی کو قبول کرنے کے بجائے اس سے اظہارِ بیزاری کریں اور اپنے ایمان کو مضبوط رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں برائی سے نفرت کرنے اور حق پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 166-170 — شعراء
ترجمہ — شعراء 168
سورہ شعراء آیت 168 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : لوط نے کہا کہ میں تمہارے کام کا سخت دشمن…سورہ آیت 168/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 166–170. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








