أُوتِیَتْ مِن کُلِّ شَیْءٍ: اسے ہر چیز (میں سے جو دنیاوی اسباب کے لیے موزوں تھا) دیا گیا۔
عَرْشٌ عَظِیمٌ: بہت بڑا تخت (تختِ شاہی)۔
تفسیرِ آیہ:
حضرت سلیمان علیہ السلام کے قاصد (ہُدہُد) نے جب ملکِ سبا کی خبر دی تو اس میں یہ بھی بتایا کہ میں نے وہاں ایک عورت کو پایا جو ان لوگوں پر حکمرانی کرتی ہے۔ اس عورت کا نام بلقیس تھا، اور وہ ایک دانا، صاحبِ رائے اور طاقتور ملکہ تھی۔ اسے دنیاوی اسباب میں سے ہر وہ چیز دی گئی تھی جو ایک بادشاہ کے لیے باعثِ عزت اور اقتدار ہوتی ہے، جیسے مال، فوج، سازوسامان اور تدبیرِ حکومت۔ مزید یہ کہ اس کا ایک بہت بڑا اور شاندار تخت تھا، جس پر بیٹھ کر وہ اپنی سلطنت کے معاملات چلاتی تھی۔ یہ تخت نہ صرف اپنی عظمت میں بے مثال تھا بلکہ اس کی تعمیر اور زیبائش بھی حیرت انگیز تھی۔
دعوتی پہلو:
یہ واقعہ ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کسی کو بھی اقتدار اور وسائل دیے ہیں، وہ اسی کی عطا سے ملتے ہیں۔ لیکن اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنی طاقت اور وسائل کو اللہ کی اطاعت اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے استعمال کرے۔ ملکہ بلقیس کے پاس بڑی سلطنت اور شاندار تخت تھا، مگر جب اسے حق کی روشنی ملی تو اس نے فوراً اسے قبول کیا اور اپنی قوم کے ساتھ ایمان لے آئی۔ یہ سبق ہمارے لیے ہے کہ دنیاوی جاہ و حشمت عارضی ہے، اور حقیقی عزت اللہ کے دین کو ماننے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی نعمتوں کو شکرگزاری اور اطاعت کا ذریعہ بنائیں۔ آمین۔
ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ ہُدہُد آ موجود ہوا اور کہنے لگا کہ مجھے ایک ایسی چیز معلوم ہوئی ہے جس کی آپ کو خبر نہیں اور میں آپ کے پاس (شہر) سبا سے ایک سچی خبر لے کر آیا ہوں
میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم خدا کو چھوڑ کر آفتاب کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال انہیں آراستہ کر دکھائے ہیں اور ان کو رستے سے روک رکھا ہے پس وہ رستے پر نہیں آئے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔