لَمُخْرَجُونَ: نکالے جانے والے، قبروں سے زندہ کر کے اٹھائے جانے والے۔
تفسیر:
یہ آیت ان کافروں کا حال بیان کرتی ہے جو قیامت اور حشرِ نشر کا مذاق اڑاتے تھے۔ یہ لوگ حیرت اور انکار کے ساتھ کہتے تھے: "کیا جب ہم مر کر مٹی بن جائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی مٹی ہو چکے ہوں گے، تو کیا ہم واقعی قبروں سے زندہ کر کے نکالے جائیں گے؟" وہ اس بات کو ناممکن سمجھتے تھے اور اپنے محدود عقل کی بنیاد پر اللہ کی قدرت کو چیلنج کرتے تھے۔
ان کا یہ قول دراصل ان کی جہالت اور سرکشی کا مظہر تھا۔ وہ یہ بھول گئے کہ جس اللہ نے انہیں پہلی بار پیدا کیا، وہی انہیں دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔ مٹی بن جانا اللہ کی قدرت کے لیے کوئی مشکل نہیں، کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔ کیا واقعی یہ عقل مندی ہے کہ ہم اس اللہ کی قدرت پر شک کریں جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا؟ جس نے ہمیں نطفے سے بنایا اور پھر ہمیں مکمل انسان بنا دیا؟ کیا وہ ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا؟ یقیناً وہ قادر ہے۔ قیامت کا دن حق ہے، اور اس پر ایمان لانا ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ جو لوگ اس پر ایمان لائیں گے، وہ جنت کی نعمتوں سے ہمکنار ہوں گے، اور جو انکار کریں گے، وہ اپنے انجام سے خود ڈریں گے۔ اللہ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔