ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- ادّارَكَ: تتابع اور مکمل ہو گیا۔
- عَمُونَ: اندھے، یعنی بصیرت سے محروم۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا ان لوگوں کا علم آخرت تک پہنچ گیا ہے؟ کیا انہوں نے قیامت اور اس کے احوال کو جان لیا ہے؟ ہرگز نہیں! یہ محض ان کا گمان اور خیالِ خام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آخرت کا علم صرف اللہ کے پاس ہے، اور کوئی شخص غیب کا علم نہیں رکھتا۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کے حال کو تین مراحل میں بیان فرماتا ہے:
پہلا حال: بَلِ ادّارَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْآخِرَةِ — یعنی کیا ان کا علم آخرت کے بارے میں مکمل اور تابع ہو گیا؟ یہ ایک استفہامی انکاری جملہ ہے، یعنی ہرگز نہیں، ان کا علم آخرت تک نہیں پہنچا۔
دوسرا حال: بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِّنْهَا — بلکہ وہ آخرت کے بارے میں شک اور تردد میں مبتلا ہیں۔ وہ نہ اسے یقین سے مانتے ہیں اور نہ ہی اس کے آنے پر انہیں کوئی اعتماد ہے۔
تیسرا حال: بَلْ هُم مِّنْهَا عَمُونَ — بلکہ وہ تو آخرت سے اندھے ہیں، ان کی بصیرتیں بند ہو چکی ہیں۔ وہ دل کی آنکھ سے اندھے ہیں، اس لیے وہ آخرت کی حقیقت کو دیکھ ہی نہیں سکتے۔
یہ تینوں مراتب اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ کفار کا آخرت سے تعلق انتہائی کمزور ہے — نہ انہیں یقین ہے، نہ علم، نہ بصیرت۔ وہ محض دنیا کی زندگی میں مگن ہیں اور آخرت کو بھول چکے ہیں۔
دعوتی پہلو:
پیارے مسلمان بھائیو! یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ ہم آخرت کے بارے میں یقینِ کامل رکھیں، شک اور تردد سے بچیں، اور اپنی بصیرت کو روشن رکھیں۔ جو شخص آخرت پر یقین رکھتا ہے، وہ دنیا میں اللہ کی اطاعت کرتا ہے، گناہوں سے بچتا ہے، اور نیک اعمال میں مشغول رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آخرت کا یقینِ کامل عطا فرمائے اور ہماری بصیرتوں کو روشن رکھے۔ آمین۔
📜 آیت 64-68 — نمل
ترجمہ — نمل 66
سورہ نمل آیت 66 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بلکہ آخرت (کے بارے) میں ان کا علم منتہی ہوچکا…سورہ آیت 66/93 — نمل النمل (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نمل سنیں, نمل ترجمہ, نمل mp3, نمل pdf. آیت 64–68. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








