ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- نَفْسًا: ایک شخص، ایک جان۔
- فَأَخَافُ: پس میں ڈرتا ہوں۔
- أَن يَقْتُلُونِ: کہ وہ مجھے قتل کر دیں۔
تفسیر:
حضرت موسیٰ علیہ السلام جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرعون اور اس کی قوم کے پاس جانے کے لیے تیار ہوئے تو انہوں نے اپنے رب کے حضور عاجزی اور انکساری کے ساتھ عرض کیا: "اے میرے رب! میں نے ان میں سے ایک شخص کو قتل کیا تھا (یعنی وہ قبطی جسے میں نے ایک مظلوم کی مدد کے لیے مارا تھا)۔ پس مجھے ڈر ہے کہ اگر میں اب ان کے پاس جاؤں گا تو وہ مجھے اس قتل کے بدلے میں قتل کر دیں گے۔"
یہ عرض حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بشریت کا تقاضا تھا، کیونکہ وہ ایک انسان تھے اور انہیں اپنی جان کا اندیشہ تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے رب پر بھروسہ رکھا اور اپنی کمزوری کا اعتراف کرتے ہوئے اللہ سے مدد طلب کی۔ یہ ایک عظیم سبق ہے کہ نبی بھی اپنی بشری کمزوریوں کا اظہار کرتے ہیں، لیکن وہ اللہ ہی سے فریاد کرتے ہیں۔
اس آیت سے ہمیں یہ تعلیم ملتی ہے کہ جب بھی ہمیں کسی مشکل یا خوف کا سامنا ہو، تو ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اپنی عاجزی کا اظہار کرنا چاہیے اور اس سے مدد مانگنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پکار سنتا ہے اور ان کی مدد کرتا ہے، جیسا کہ اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مدد کی اور انہیں فرعون کے ظلم سے محفوظ رکھا۔
یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اللہ کے راستے میں آنے والی رکاوٹوں سے گھبرانا نہیں چاہیے، بلکہ اللہ پر توکل کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ آئیے ہم بھی اپنے معاملات میں اللہ پر بھروسہ کریں اور اس سے دعا کریں کہ وہ ہمیں ہر مشکل میں کامیابی عطا فرمائے۔
📜 آیت 31-35 — قصص
ترجمہ — قصص 33
سورہ قصص آیت 33 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : موسٰی نے کہا اے پروردگار اُن میں کا ایک شخص…سورہ آیت 33/88 — قصص القصص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قصص سنیں, قصص ترجمہ, قصص mp3, قصص pdf. آیت 31–35. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








