اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لئے رات کو اور دن کو بنایا تاکہ تم اس میں آرام کرو اور اس میں اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو
📜
ترجمہ — Tafsir
اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ایک عظیم ترین مظہر یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے رات اور دن بنائے۔ رات کو اس نے تاریک بنایا تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو، اپنی تھکاوٹ دور کرو اور اپنے جسم و روح کو آرام دو، کیونکہ دن بھر کی مشقتوں کے بعد یہ سکون اللہ کی خاص رحمت ہے۔ اور دن کو اس نے روشن بنایا تاکہ تم اس میں اپنے معاش کے لیے دوڑ دھوپ کرو، اللہ کا فضل تلاش کرو اور اپنی روزی کے حصول کے لیے جدوجہد کرو۔ یہ نظامِ کائنات اس کی رحمت کا ایک زندہ ثبوت ہے، جو تمہاری ضروریات کو پوری طرح مدنظر رکھتا ہے۔
اس طرح اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کو تمہارے لیے دو الگ الگ نعمتیں بنایا ہے، ایک میں سکون ہے اور دوسرے میں کوشش اور جدوجہد۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ تم اپنے رب کی ان نعمتوں کا شکر ادا کرو، اس کی عبادت کرو اور اس کے احسانات کو یاد رکھو۔ شکر کا مطلب صرف زبان سے "الحمدللہ" کہنا نہیں، بلکہ ان نعمتوں کو اللہ کی اطاعت اور اس کی رضا کے مطابق استعمال کرنا ہے۔
یاد رکھو! اللہ کی رحمت کا یہ نظام تمہارے لیے ایک دعوتِ فکر ہے۔ جب تم رات کی تاریکی میں سکون پاتے ہو اور دن کی روشنی میں کام کرتے ہو، تو غور کرو کہ یہ سب کس نے بنایا؟ کیا یہ سب کچھ خود بخود ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں! یہ اللہ کی حکمت اور رحمت ہے جو تمہیں ہر لمحہ گھیرے ہوئے ہے۔ اس لیے اپنے رب کا شکر ادا کرو، اس کی نعمتوں کو پہچانو اور اپنی زندگی کو اس کی رضا کے مطابق ڈھالو۔ یہی شکر تمہیں اللہ کی مزید رحمتوں کا مستحق بنائے گا اور تمہاری دنیا و آخرت دونوں کو سنوار دے گا۔
اور ہم ہر ایک اُمت میں سے گواہ نکال لیں گے پھر کہیں گے کہ اپنی دلیل پیش کرو تو وہ جان لیں گے کہ سچ بات خدا کی ہے اور جو کچھ وہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے جاتا رہے گا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔