یہ جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں (خواہ) وہ کچھ ہی ہو خدا اُسے جانتا ہے۔ اور وہ غالب اور حکمت والا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یَدْعُونَ: پکارتے ہیں، عبادت کرتے ہیں
مِن دُونِهِ: اللہ کے سوا
مِن شَيْءٍ: کسی چیز کو (یعنی حقیقت میں وہ کچھ بھی نہیں)
الْعَزِيزُ: غالب، زبردست، جسے کوئی مغلوب نہ کر سکے
الْحَكِيمُ: حکمت والا، جو ہر کام حکمت سے کرے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ مشرکین سے فرما دیں کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم لوگ اس کے سوا جن چیزوں کو پکارتے ہو اور جنہیں اپنا معبود بناتے ہو، وہ حقیقت میں کچھ بھی نہیں۔ وہ نہ کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں، نہ نقصان۔ وہ محض بے جان چیزیں ہیں، یا پھر وہ نام ہیں جو تم نے خود رکھ لیے ہیں۔ اللہ کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، وہ جانتا ہے کہ یہ معبود باطل ہیں اور ان میں کوئی طاقت نہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنی دو عظیم صفات بیان فرماتا ہے: "وہ عزیز ہے" یعنی وہ غالب اور زبردست ہے، کوئی اس پر غالب نہیں آ سکتا، اور وہ اپنے دشمنوں سے انتقام لینے پر قادر ہے۔ "اور حکیم ہے" یعنی وہ ہر کام حکمت اور مصلحت کے ساتھ کرتا ہے، اس کی تدبیر اور اس کا انتظام کامل ہے۔ وہ بندوں کو مہلت دیتا ہے، لیکن پکڑتا اس وقت ہے جب حکمت کا تقاضا ہو۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ ہم اپنی زندگی میں صرف اللہ پر بھروسہ کریں۔ جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں سے مدد مانگتے ہیں، وہ دراصل ایسی چیزوں سے مدد مانگ رہے ہیں جو کچھ بھی نہیں کر سکتیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بتا رہا ہے کہ وہ ہر چیز سے باخبر ہے، وہ ہماری ہر پکار سنتا ہے، ہر دعا جانتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنی حاجات صرف اسی سے مانگیں، اسی سے ڈریں، اسی سے امید رکھیں۔ یاد رکھیں! اللہ عزیز ہے، اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں، اور وہ حکیم ہے، وہ ہر اس شخص کی مدد کرتا ہے جو خلوص دل سے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ کیا ہی خوش نصیب ہے وہ بندہ جو اپنے خالق و مالک کی پناہ میں آ جائے اور اس کی رحمت کا امیدوار بن جائے!
تو ہم نے سب کو اُن کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا۔ سو ان میں کچھ تو ایسے تھے جن پر ہم نے پتھروں کا مینھہ برسایا۔ اور کچھ ایسے تھے جن کو چنگھاڑ نے آپکڑا اور کچھ ایسے تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا۔ اور کچھ ایسے تھے جن کو غرق کر دیا اور خدا ایسا نہ تھا کہ اُن پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے
جن لوگوں نے خدا کے سوا (اوروں کو) کارساز بنا رکھا ہے اُن کی مثال مکڑی کی سی ہے کہ وہ بھی ایک (طرح کا) گھر بناتی ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ تمام گھروں سے کمزور مکڑی کا گھر ہے کاش یہ (اس بات کو) جانتے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔