ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مَثَل: حالت، مثال، شان
- عند اللہ: اللہ کے نزدیک، اللہ کے علم و قدرت میں
- کَمَثَلِ آدَم: آدم کی طرح
- خَلَقَهُ: اسے پیدا کیا
- مِن تُرَابٍ: مٹی سے
- کُن فَیَکُون: ہو جا، پس وہ ہو جاتا ہے
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملے کو واضح فرما دیا ہے تاکہ اہل کتاب اور مشرکین کا وہ اعتراض ختم ہو جائے جو وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے حوالے سے کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مثال اللہ کے نزدیک بالکل حضرت آدم علیہ السلام جیسی ہے۔ جس طرح حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ نے نہ باپ سے پیدا کیا اور نہ ماں سے، بلکہ انہیں مٹی سے پیدا فرمایا، پھر انہیں حکم دیا کہ "ہو جا" تو وہ ہو گئے، اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی اللہ نے بغیر باپ کے پیدا فرمایا۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے ایک بہت ہی لطیف اور مدلل انداز میں اہل کتاب کے اس باطل دعوے کا رد فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وہ اللہ کا بیٹا کہتے تھے۔ اللہ فرماتا ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونا ان کی الوہیت کی دلیل ہے تو پھر حضرت آدم علیہ السلام تو اس سے بھی بڑھ کر معجزہ ہیں، کیونکہ وہ نہ باپ سے پیدا ہوئے نہ ماں سے، بلکہ صرف مٹی سے پیدا کیے گئے۔ اور پھر تمام اہل کتاب اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام ایک بندہ اور نبی تھے، اللہ کے بندے تھے، اللہ کے بیٹے نہیں تھے۔ تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کیوں کر اللہ کا بیٹا کہا جا سکتا ہے؟
یہ اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت ہے کہ وہ جب کسی چیز کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو صرف حکم دیتا ہے "ہو جا" اور وہ چیز فوراً ہو جاتی ہے۔ اس کے لیے کسی ذریعے کی ضرورت نہیں، نہ باپ کی ضرورت ہے نہ ماں کی۔ یہ اللہ کی قدرت کا کمال ہے کہ اس نے حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا، حضرت حوا کو حضرت آدم کی پسلی سے پیدا کیا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کیا، اور باقی تمام انسانوں کو باپ اور ماں کے ذریعے پیدا کیا۔ یہ سب اللہ کی قدرت کے مظاہر ہیں۔
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کامل ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ہمیں اللہ کی قدرت پر ایمان لانا چاہیے اور اس کی عظمت کو تسلیم کرنا چاہیے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ نبی اور رسول تھے، انہیں اللہ نے معجزات عطا فرمائے تھے، لیکن وہ اللہ کے بندے تھے، اللہ کے بیٹے نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم تمام انبیاء علیہم السلام کی تعظیم کریں اور انہیں اللہ کے بندے اور رسول مانیں، کیونکہ یہی ایمان کا تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 57-61 — آل عمران
ترجمہ — آل عمران 59
سورہ آل عمران آیت 59 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : عیسیٰ کا حال خدا کے نزدیک آدم کا سا ہے…سورہ آیت 59/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 57–61. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








