ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- لَمُبْلِسِینَ: مایوس، ناامید، حیران و پریشان۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور قدرت کا ایک عظیم منظر پیش فرما رہے ہیں۔ جب بارش کا زمانہ آتا ہے اور لوگ اس کے منتظر ہوتے ہیں، مگر بارش نہیں ہوتی، تو لوگ مایوسی اور قنوطیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کے چہروں پر افسردگی چھا جاتی ہے، ان کے دل ٹوٹ جاتے ہیں، اور وہ سمجھتے ہیں کہ شاید اب بارش نہیں آئے گی۔ یہ مایوسی اس قدر شدید ہوتی ہے کہ وہ اپنی تمام تدبیروں سے مایوس ہو جاتے ہیں۔
پھر جب اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے بادل بھیجتا ہے اور بارش برساتی ہے، تو یہی لوگ خوشی سے جھوم اٹھتے ہیں، ان کے چہرے کھل جاتے ہیں، اور وہ اللہ کے فضل و کرم کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ یہ منظر انسانی زندگی کا ایک سبق آموز نمونہ ہے کہ انسان کبھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر لمحہ اپنے بندوں پر فضل و کرم فرمانے والا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک بہت اہم سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ انسان کی زندگی میں مشکلات اور پریشانیاں آتی ہیں، لیکن یہ عارضی ہوتی ہیں۔ جس طرح بارش سے پہلے مایوسی چھا جاتی ہے، پھر اللہ کی رحمت سے بارش آتی ہے اور سکھ چین آ جاتا ہے، اسی طرح ہر مشکل کے بعد آسانی آتی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے" (الشرح: 6)۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ پر بھروسہ رکھیں، اس کی رحمت سے امید رکھیں، اور کبھی مایوس نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بہت محبت کرتا ہے، اور وہ ہر دعا سنتا ہے، ہر پکار کا جواب دیتا ہے۔ جب ہم اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اللہ کی طرف رجوع کریں، تو وہ ہم پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ یہی ایمان کی خوبصورتی ہے کہ انسان ہر حالت میں اللہ سے جڑا رہے، خوشی میں بھی اور غم میں بھی، اور یقین رکھے کہ اللہ کی رحمت اس کی مایوسی سے کہیں بڑی ہے۔
📜 آیت 47-51 — روم
ترجمہ — روم 49
سورہ روم آیت 49 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور بیشتر تو وہ مینھہ کے اُترنے سے پہلے نااُمید…سورہ آیت 49/60 — روم الروم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: روم سنیں, روم ترجمہ, روم mp3, روم pdf. آیت 47–51. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








