کہہ دو کہ تم سے ایک دن کا وعدہ ہے جس سے نہ ایک گھڑی پیچھے رہوگے اور نہ آگے بڑھو گے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
مِیعاد: وعدہ، طے شدہ وقت
تَستَأخِرُونَ: پیچھے ہٹو گے، مؤخر کرو گے
تَستَقدِمُونَ: آگے بڑھو گے، پہلے کرو گے
تفسیر:
اے نبی! آپ ان لوگوں سے فرما دیجیے جو عذابِ الٰہی کو جلدی مانگ رہے ہیں اور اسے بعید سمجھ رہے ہیں کہ تمہارے لیے ایک مقررہ دن کا وعدہ ہے، جو یقیناً آنے والا ہے اور جسے کوئی طاقت ٹال نہیں سکتی۔ وہ دن قیامت کا دن ہے، جب تمہیں اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اس دن سے تم نہ ایک گھڑی بھر کے لیے پیچھے ہٹ سکو گے، نہ آگے بڑھ سکو گے۔ جب وہ وقت آ جائے گا تو نہ تمہیں مہلت دی جائے گی کہ توبہ کر سکو، اور نہ اس سے پہلے عذاب آ سکتا ہے، کیونکہ اللہ نے اپنی حکمت سے ہر چیز کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔
یہ دراصل ان کافروں کے لیے ایک سخت تنبیہ ہے جو عذاب کو مذاق سمجھ کر جلدی مانگتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ عذاب تم سے دور نہیں، بلکہ تمہارے انتظار میں ہے، اور جب وہ آئے گا تو تمہارے لیے کوئی راہِ فرار نہ ہوگی۔ اس لیے اے بندو! اس دن سے پہلے پہلے اپنے رب کی طرف رجوع کرو، اپنے گناہوں سے توبہ کرو، اور اس دن کی تیاری کرو، کیونکہ وہ دن یقینی طور پر آنے والا ہے۔ اللہ نے اپنے بندوں پر رحم فرماتے ہوئے انہیں آگاہ کر دیا ہے تاکہ وہ اس دن سے پہلے اپنی زندگی سنوار لیں۔ یہ اللہ کا بہت بڑا فضل ہے کہ اس نے ہمیں خبردار کر دیا، ورنہ ہم غفلت میں پڑے رہتے اور اچانک اس دن کا سامنا کرنا پڑتا۔ پس ہمیں چاہیے کہ ہر لمحہ اس دن کی فکر کریں، نیک اعمال کریں، اور اللہ کی رحمت کے طلب گار رہیں، کیونکہ وہی سب سے زیادہ رحم فرمانے والا اور معاف کرنے والا ہے۔
اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم نہ تو اس قرآن کو مانیں گے اور نہ ان (کتابوں) کو جو ان سے پہلے کی ہیں اور کاش (ان) ظالموں کو تم اس وقت دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہوں گے اور ایک دوسرے سے ردوکد کر رہے ہوں گے۔ جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے وہ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوجاتے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔