ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- جِنَّة: اس سے مراد فرشتے ہیں۔ انہیں "جِنَّة" اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ وہ آنکھوں سے پوشیدہ اور مستور ہیں۔
- نَسَب: رشتہ، قرابت۔
- لَمُحْضَرُونَ: حاضر کیے جانے والے، یعنی عذاب کے لیے لائے جانے والے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ مشرکینِ عرب کے اس باطل عقیدے کا پردہ فاش کر رہے ہیں جس میں انہوں نے اللہ اور فرشتوں کے درمیان رشتہ اور قرابت قائم کرنے کی جسارت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں، اور یوں انہوں نے اللہ کی ذاتِ پاک کے لیے اولاد کا باطل تصور گھڑ لیا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر اس صفت سے پاک ہے جو مخلوق کو زیب دیتی ہے، وہ نہ پیدا ہوا ہے اور نہ کسی کو پیدا کرتا ہے۔
یہ بات انتہائی حیرت انگیز ہے کہ جن فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی اولاد قرار دیا، خود وہی فرشتے ان مشرکین کے اس جھوٹے اور گھڑے ہوئے عقیدے سے بری اور بیزار ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فرشتوں کو پورا علم ہے کہ یہ مشرکین قیامت کے دن ضرور حاضر کیے جائیں گے، لیکن وہاں ان کی حاضری کسی اعزاز یا بخشش کے لیے نہ ہوگی، بلکہ انہیں جہنم کے عذاب کے لیے حاضر کیا جائے گا۔
یہ آیت ہمیں ایک عظیم سبق دیتی ہے کہ اللہ کی ذات کے بارے میں کوئی ایسی بات کہنا یا ماننا سخت گناہ ہے جو اس کی شانِ الٰہی کے خلاف ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی ذات، اس کی صفات اور اس کے احکامات کو صرف اسی طرح سمجھیں جس طرح قرآن و سنت نے بیان کیا ہے، اور کسی بھی طرح کی مبالغہ آرائی یا غلط تصور سے بچیں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر بے پناہ رحم فرمایا ہے کہ انہیں سیدھا راستہ دکھایا، اور ہمیں چاہیے کہ ہم اس رحمت کا شکر ادا کریں اور اپنے عقیدے کو شرک اور بدعت کی آلودگیوں سے پاک رکھیں۔ جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں یا اس کی شان میں گستاخی کرتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں سخت عذاب ہے، لیکن جو لوگ توحید پر قائم رہتے ہیں اور اللہ کی عظمت کو دل سے تسلیم کرتے ہیں، ان کے لیے مغفرت اور جنت کی خوشخبری ہے۔
📜 آیت 156-160 — صافات
ترجمہ — صافات 158
سورہ صافات آیت 158 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور انہوں نے خدا میں اور جنوں میں رشتہ مقرر…سورہ آیت 158/182 — صافات الصافات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: صافات سنیں, صافات ترجمہ, صافات mp3, صافات pdf. آیت 156–160. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








