ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- إِذْ قَالَ: جب اس نے کہا۔
- لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ: اپنے باپ اور اپنی قوم سے۔
- مَاذَا تَعْبُدُونَ: تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو؟
تفسیر:
یہ آیت کریمہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس عظیم موقف کا ذکر کر رہی ہے جب انہوں نے اپنے باپ آزر اور اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے ان کے شرک پر سخت گرفت کی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نوح علیہ السلام کی پیروی کرنے والوں میں سے تھے اور ان کا دل ہر باطل عقیدے اور ہر برے اخلاق سے پاک تھا۔ انہوں نے اپنی قوم سے پوچھا: "تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو؟" یہ سوال دراصل ان کے اس فعل کی مذمت تھی کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر ان بتوں کی پوجا کر رہے تھے جو نہ کچھ فائدہ دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ سوال دراصل ان کی قوم کے شعور کو جگانے کے لیے تھا، تاکہ وہ غور کریں کہ وہ کس چیز کی عبادت کر رہے ہیں۔ کیا یہ پتھر کے بت، جنہیں انہوں نے خود تراشا ہے، عبادت کے لائق ہیں؟ کیا یہ مخلوقات جو خود پیدا نہیں کر سکتیں، خالق کی عبادت کا حق رکھتی ہیں؟ یہ سوال ان کے لیے ایک دعوت تھی کہ وہ اپنے باطل عقائد پر نظر ثانی کریں اور صرف اللہ کی عبادت کریں جو حقیقی طور پر عبادت کا مستحق ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حق بات کہنے میں کسی رشتے یا قوم کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ سے بھی حق بات کہی اور اپنی قوم کو بھی غلط راستے سے روکنے کی کوشش کی۔ آج بھی ہمیں اپنے گھر والوں اور اپنی قوم کو شرک اور بدعات سے بچانے کی کوشش کرنی چاہیے، چاہے اس میں کتنی ہی مشکلات کیوں نہ آئیں۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت ہی واحد سچی عبادت ہے، اور اسی کی طرف دعوت دینا ہر مسلمان کا فرض ہے۔
📜 آیت 83-87 — صافات
ترجمہ — صافات 85
سورہ صافات آیت 85 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جب انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے…سورہ آیت 85/182 — صافات الصافات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: صافات سنیں, صافات ترجمہ, صافات mp3, صافات pdf. آیت 83–87. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








