ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- إفکاً: جھوٹ، باطل، دھوکہ۔
- آلِہَة: معبود، خدا۔
- دُونَ اللہِ: اللہ کے سوا۔
- تُرِیدُونَ: تم چاہتے ہو، تم ارادہ کرتے ہو۔
تفسیر:
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا: تم اللہ کے سوا جن چیزوں کی عبادت کرتے ہو، وہ کیا ہیں؟ کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ایسے معبودوں کو پوجنا چاہتے ہو جو محض جھوٹ اور باطل ہیں؟ یہ کیسا عجیب فیصلہ ہے کہ تم حقیقی اور سچے خدا کو چھوڑ کر اپنے ہاتھوں کے بنائے ہوئے بتوں کے سامنے جھکتے ہو۔ یہ تمہارا عمل نہایت احمقانہ اور گمراہ کن ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس جملے میں اپنی قوم کے شرک کو اس طرح بے نقاب کیا کہ ان کے معبود محض افترا اور جھوٹ پر مبنی تھے، ان کی کوئی حقیقت نہ تھی۔ وہ اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی طرف مائل ہو رہے تھے جو نہ نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان۔ یہ سوال دراصل ان کے دلوں کو جھنجھوڑنے کے لیے تھا تاکہ وہ اپنی غلطی محسوس کریں اور توحید کی طرف لوٹ آئیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی عقل سے کام لے اور باطل معبودوں کی بجائے صرف اللہ کی عبادت کرے۔ ہر وہ چیز جو اللہ کے سوا انسان کو اپنی طرف مائل کرے، وہ دراصل ایک جھوٹا معبود ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو خالص کریں اور اپنی زندگی کے ہر معاملے میں صرف اللہ کی رضا کو پیش نظر رکھیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعوت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں بھی اپنے گھر والوں اور معاشرے کو شرک اور باطل سے بچانے کی کوشش کرنی چاہیے، اور انہیں سچے دین کی طرف بلانا چاہیے۔ اللہ ہمیں توحید پر ثابت قدم رکھے اور شرک سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 84-88 — صافات
ترجمہ — صافات 86
سورہ صافات آیت 86 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کیوں جھوٹ (بنا کر) خدا کے سوا اور معبودوں کے…سورہ آیت 86/182 — صافات الصافات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: صافات سنیں, صافات ترجمہ, صافات mp3, صافات pdf. آیت 84–88. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








