ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- ظَنّ: خیال، گمان، اندیشہ۔
- رَبّ العالمین: تمام جہانوں کا پالنے والا، پروردگارِ کائنات۔
تفسیرِ آیہ:
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے یہ سوال کیا تھا کہ تم اللہ کو چھوڑ کر ان چیزوں کی عبادت کیوں کرتے ہو جنہیں تم نے خود بنا رکھا ہے؟ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ پھر انہوں نے ایک ایسا سوال کیا جو ان کے دل کی گہرائیوں سے نکلا تھا اور جس نے ان کی قوم کو سوچنے پر مجبور کر دیا تھا: "فَمَا ظَنُّكُم بِرَبِّ الْعَالَمِينَ" یعنی "پھر تمہارا اپنے رب العالمین کے بارے میں کیا گمان ہے؟"
یہ سوال دراصل ایک بیدار کرنے والا پیغام تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام فرما رہے تھے کہ جس دن تم اس رب کے سامنے کھڑے ہوگے جس نے تمہیں پیدا کیا، تمہیں رزق دیا، تمہیں زمین پر آباد کیا اور تمہیں عقل و سمجھ عطا کی — اس دن تمہارا کیا حال ہوگا؟ جب تم نے اس کی عبادت نہیں کی بلکہ اس کے ساتھ شرک کیا، تو کیا تمہیں ڈر نہیں لگتا کہ وہ تمہارے ساتھ کیا معاملہ کرے گا؟ کیا تمہیں یقین ہے کہ وہ تمہیں معاف کر دے گا؟ کیا تمہیں امید ہے کہ وہ تمہیں سزا نہیں دے گا؟
یہ سوال محض استفہام نہیں تھا بلکہ ایک تنبیہ تھی، ایک ڈر اور امید کے درمیان توازن پیدا کرنے والی نصیحت تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم کو بتانا چاہتے تھے کہ جس رب نے تمہیں اتنی نعمتیں دیں، کیا تمہارا یہ گمان ہے کہ وہ تمہارے شرک کو نظر انداز کر دے گا؟ کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ وہ تمہیں اس طرح چھوڑ دے گا جیسے تم نے اسے چھوڑ دیا؟ ہرگز نہیں! وہ رب عدل کا مالک ہے، حساب لینے والا ہے، اور اس کی گرفت بہت سخت ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے رب کے بارے میں ہمیشہ صحیح گمان رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ رحم کرنے والا ہے، معاف کرنے والا ہے، لیکن وہ انصاف کرنے والا بھی ہے۔ ہمیں اپنی زندگی میں شرک اور گناہوں سے بچنا چاہیے، کیونکہ جس دن ہم اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوں گے، ہم سے ہمارے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔
یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے رب کی عظمت کو پہچاننا چاہیے۔ وہ رب العالمین ہے — تمام جہانوں کا پالنے والا۔ اس کی عبادت ہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔ جب ہم اللہ کو اپنا رب مان لیں گے اور اس کی اطاعت کریں گے، تو ہمیں کسی چیز کا خوف نہیں ہوگا، کیونکہ وہ ہمارا حامی و ناصر ہوگا۔
آئیے ہم اس آیت سے سبق لیں اور اپنے رب کے بارے میں اچھا گمان رکھیں، لیکن ساتھ ہی اس کے عذاب سے ڈرتے رہیں، اور اپنی زندگی کو اس کی رضا کے مطابق ڈھالیں۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے، اور یہی وہ پیغام ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو دیا تھا۔
📜 آیت 85-89 — صافات
ترجمہ — صافات 87
سورہ صافات آیت 87 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بھلا پروردگار عالم کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟سورہ آیت 87/182 — صافات الصافات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: صافات سنیں, صافات ترجمہ, صافات mp3, صافات pdf. آیت 85–89. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








