اور اگر میاں بیوی (میں موافقت نہ ہوسکے اور) ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں تو خدا ہر ایک کو اپنی دولت سے غنی کردے گا اور خدا بڑی کشائش والا اور حکمت والا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یَتَفَرَّقَا: میاں بیوی کا ایک دوسرے سے جدا ہو جانا، طلاق یا خلع کے ذریعے علیحدگی اختیار کر لینا۔
یُغْنِ: بے نیاز کر دے گا، وسعت دے گا۔
سَعَتِهِ: اپنی کشادگی اور فضل و رحمت سے۔
وَاسِعًا: بڑی وسعت والا، جس کے فضل و رزق کی کوئی انتہا نہیں۔
حَکِیمًا: کامل حکمت والا، جو ہر کام مصلحت اور دانائی کے ساتھ کرتا ہے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں میاں بیوی کے تعلقات کے حوالے سے ایک اور اہم حکم بیان فرما رہے ہیں۔ جب میاں بیوی کے درمیان نباہ ممکن نہ رہے اور وہ طلاق یا خلع کے ذریعے ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں، تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے دونوں کو بے نیاز فرما دے گا۔ یعنی اگر وہ علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ان میں سے ہر ایک کو اپنی کشادہ رحمت سے ایسا سامان فراہم کر دے گا جو ان کے دکھوں کی تلافی کر دے۔ عورت کو کوئی بہتر ساتھی مل سکتا ہے، اور مرد کو بھی اچھی بیوی مل سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل اتنا وسیع ہے کہ وہ کسی کو محروم نہیں رکھتا۔
یہ آیت ان لوگوں کے لیے بہت بڑی تسلی اور خوشخبری ہے جو طلاق کے بعد مایوسی اور پریشانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری وسعت پر بھروسہ رکھو، میں تمہیں تنہا نہیں چھوڑوں گا۔ جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے، اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ پیدا فرما دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ "واسع" ہے، یعنی اس کا فضل، رزق اور رحمت ہر چیز کو محیط ہے۔ وہ "حکیم" ہے، یعنی اس کے فیصلے حکمت پر مبنی ہیں۔ جو کچھ وہ کرتا ہے، بندے کی بھلائی کے لیے کرتا ہے، چاہے بندے کو اس وقت سمجھ نہ آئے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ زندگی میں کبھی کبھی ایسے حالات آ جاتے ہیں جب علیحدگی ہی بہتر ہوتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو اپنے فضل سے نوازے گا۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے مایوسی کے بعد امید کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ کی وسعت پر یقین رکھے اور ہر حال میں اس کی رحمت سے امید وابستہ رکھے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے، اور وہ اپنے بندوں کو کبھی ذلیل نہیں کرتا۔ جو لوگ اللہ کے حکموں پر عمل کرتے ہیں اور اس پر بھروسہ رکھتے ہیں، اللہ ان کے لیے بہتر راستے پیدا فرما دیتا ہے۔
اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے زیادتی یا بےرغبتی کا اندیشہ ہو تم میاں بیوی پر کچھ گناہ نہیں کہ آپس میں کسی قرارداد پر صلح کرلیں۔ اور صلح خوب (چیز) ہے اور طبیعتیں تو بخل کی طرف مائل ہوتی ہیں اور اگر تم نیکوکاری اور پرہیزگاری کرو گے تو خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
اور تم خوا کتنا ہی چاہو عورتوں میں ہرگز برابری نہیں کرسکو گے تو ایسا بھی نہ کرنا کہ ایک ہی کی طرف ڈھل جاؤ اور دوسری کو (ایسی حالت میں) چھوڑ دو کہ گویا ادھر ہوا میں لٹک رہی ہے اور اگر آپس میں موافقت کرلو اور پرہیزگاری کرو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے
اور جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی ان کو بھی اور (اے محمدﷺ) تم کو بھی ہم نے حکم تاکیدی کیا ہے کہ خدا سے ڈرتے رہو اور اگر کفر کرو گے تو (سمجھ رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور خدا بے پروا اور سزاوار حمدوثنا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔