نساء · 172/176
ترجمہ تلفظ — نساء
لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ ۚ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا ۝١٧٢
Lanny yastankifal Maseehu ai yakoona `abdal lillaahi wa lal malaaa`ikatul muqarraboon; wa mai yastankif `an ibaadatihee wa yastakbir fasa yahshuruhum ilaihi jamee`aa
📖 اردو ترجمہ
مسیح اس بات سے عار نہیں رکھتے کہ خدا کے بندے ہوں اور نہ مقرب فرشتے (عار رکھتے ہیں) اور جو شخص خدا کا بندہ ہونے کو موجب عار سمجھے اور سرکشی کرے تو خدا سب کو اپنے پاس جمع کرلے گا

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • لن یستنکف: کبھی انکار نہیں کرے گا، نہ عار سمجھے گا، نہ تکبر کرے گا۔
  • المسیح: حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔
  • الملائکۃ المقرّبون: وہ فرشتے جو اللہ کے خاص مقرب ہیں، جیسے حضرت جبرائیل، میکائیل، اسرافیل اور عرش کے حامل فرشتے۔
  • یستنکف: انکار کرے، عار سمجھے۔
  • یستکبر: تکبر کرے، بڑائی کا دعویٰ کرے۔
  • فسیحشرہم: پس وہ ان سب کو جمع کرے گا۔

تفسیر:

یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے رد میں نازل ہوئی جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا یا خود خدا مانتے تھے، اور کچھ لوگ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کبھی اس بات سے عار محسوس نہیں کرتے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں، بلکہ یہ ان کے لیے باعثِ فخر اور شرف ہے۔ اسی طرح اللہ کے مقرب فرشتے بھی کبھی اپنی بندگی سے انکار نہیں کرتے، بلکہ وہ اس پر نازاں ہیں کہ وہ اللہ کے خالص بندے ہیں۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور فرشتوں کا ذکر اس لیے کیا کہ مشرکین انہیں معبود بنا کر ان کی عبادت کرتے تھے۔ اللہ فرماتا ہے کہ یہ خود تو بندگی قبول کرتے ہیں، پھر تم انہیں معبود کیوں بناتے ہو؟ اگر وہ خود کو بندہ کہلوانے میں عار محسوس نہیں کرتے، تو تمہارا انہیں خدا بنانا کس قدر جہالت اور گمراہی ہے!

پھر اللہ تعالیٰ سخت وعید سناتا ہے کہ جو شخص میری عبادت سے انکار کرے اور تکبر کرے، میں قیامت کے دن اسے ضرور اپنے سامنے حاضر کروں گا۔ اس دن تمام مخلوقات — نیک و بد، مؤمن و کافر، انسان و جن — سب کو جمع کیا جائے گا، اور اللہ اپنے عدل کے ساتھ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ جو بندگی سے انکار کرے گا وہ ذلیل ہوگا، اور جو عاجزی سے بندگی کرے گا وہ سرفراز ہوگا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ بندگی اللہ کی سب سے بڑی سعادت ہے، یہ ذلت نہیں بلکہ شرف ہے۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے عظیم نبی اور اللہ کے مقرب فرشتے اپنے آپ کو اللہ کا بندہ کہلوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں، تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنی بندگی پر ناز کریں۔ بندگی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ذلیل ہیں، بلکہ یہ کہ ہم اس عظیم رب کے بندے ہیں جو تمام جہانوں کا مالک ہے۔

آج کے دور میں بہت سے لوگ اللہ کی عبادت سے شرم محسوس کرتے ہیں، یا اسے اپنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ یہ بالکل غلط ہے۔ حقیقی عزت اور سربلندی اسی میں ہے کہ ہم اللہ کے سامنے جھکیں، اس کی عبادت کریں اور اس کے احکام پر عمل کریں۔ جو لوگ تکبر کرتے ہیں اور عبادت سے منہ موڑتے ہیں، وہ آخرت میں سخت نقصان اٹھائیں گے۔ اللہ ہمیں عاجزی اور بندگی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔



📜 آیت 170-174 — نساء

170يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمُ الرَّسُولُ بِالْحَقِّ مِن رَّبِّكُمْ فَآمِنُوا خَيْرًا لَّكُمْ ۚ وَإِن تَكْفُرُوا فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا
لوگو! خدا کے پیغمبر تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے حق بات لے کر آئے ہیں تو (ان پر) ایمان لاؤ (یہی) تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر کفر کرو گے تو (جان رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خداہی کا ہے اور خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
171يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ وَلَا تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ ۚ إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَىٰ مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِّنْهُ ۖ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ۖ وَلَا تَقُولُوا ثَلَاثَةٌ ۚ انتَهُوا خَيْرًا لَّكُمْ ۚ إِنَّمَا اللَّهُ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۖ سُبْحَانَهُ أَن يَكُونَ لَهُ وَلَدٌ ۘ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ وَكِيلًا
اے اہل کتاب اپنے دین (کی بات) میں حد سے نہ بڑھو اور خدا کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو۔ مسیح (یعنی) مریم کے بیٹے عیسیٰ (نہ خدا تھے نہ خدا کے بیٹے بلکہ) خدا کے رسول اور کا کلمہٴ (بشارت) تھے جو اس نے مریم کی طرف بھیجا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح تھے تو خدا اوراس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور (یہ) نہ کہو (کہ خدا) تین (ہیں۔ اس اعتقاد سے) باز آؤ کہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ خدا ہی معبود واحد ہے اور اس سے پاک ہے کہ اس کے اولاد ہو۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اور خدا ہی کارساز کافی ہے
172لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ ۚ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا
مسیح اس بات سے عار نہیں رکھتے کہ خدا کے بندے ہوں اور نہ مقرب فرشتے (عار رکھتے ہیں) اور جو شخص خدا کا بندہ ہونے کو موجب عار سمجھے اور سرکشی کرے تو خدا سب کو اپنے پاس جمع کرلے گا
173فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ وَيَزِيدُهُم مِّن فَضْلِهِ ۖ وَأَمَّا الَّذِينَ اسْتَنكَفُوا وَاسْتَكْبَرُوا فَيُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَلَا يَجِدُونَ لَهُم مِّن دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا
تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے وہ ان کو ان کا پورا بدلا دے گا اور اپنے فضل سے کچھ زیادہ بھی عنایت کرے گا۔ اور جنہوں نے (بندوں ہونے سے) عاروانکار اور تکبر کیا ان کو تکلیف دینے والا عذاب دے گا۔ اور یہ لوگ خدا کے سوا اپنا حامی اور مددگار نہ پائیں گے
174يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُم بُرْهَانٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَأَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُّبِينًا
لوگو تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس دلیل (روشن) آچکی ہے اور ہم نے (کفر اور ضلالت کا اندھیرا دور کرنے کو) تمہاری طرف چمکتا ہوا نور بھیج دیا ہے
نساءقرآن فہرست
176آیت
مدنیRevelation
172آیت

ترجمہ — نساء 172

سورہ نساء آیت 172 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : مسیح اس بات سے عار نہیں رکھتے کہ خدا کے…

سورہ آیت 172/176 — نساء النساء (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نساء سنیں, نساء ترجمہ, نساء mp3, نساء pdf. آیت 170–174. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں