ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- لن یستنکف: کبھی انکار نہیں کرے گا، نہ عار سمجھے گا، نہ تکبر کرے گا۔
- المسیح: حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔
- الملائکۃ المقرّبون: وہ فرشتے جو اللہ کے خاص مقرب ہیں، جیسے حضرت جبرائیل، میکائیل، اسرافیل اور عرش کے حامل فرشتے۔
- یستنکف: انکار کرے، عار سمجھے۔
- یستکبر: تکبر کرے، بڑائی کا دعویٰ کرے۔
- فسیحشرہم: پس وہ ان سب کو جمع کرے گا۔
تفسیر:
یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے رد میں نازل ہوئی جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا یا خود خدا مانتے تھے، اور کچھ لوگ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کبھی اس بات سے عار محسوس نہیں کرتے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں، بلکہ یہ ان کے لیے باعثِ فخر اور شرف ہے۔ اسی طرح اللہ کے مقرب فرشتے بھی کبھی اپنی بندگی سے انکار نہیں کرتے، بلکہ وہ اس پر نازاں ہیں کہ وہ اللہ کے خالص بندے ہیں۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور فرشتوں کا ذکر اس لیے کیا کہ مشرکین انہیں معبود بنا کر ان کی عبادت کرتے تھے۔ اللہ فرماتا ہے کہ یہ خود تو بندگی قبول کرتے ہیں، پھر تم انہیں معبود کیوں بناتے ہو؟ اگر وہ خود کو بندہ کہلوانے میں عار محسوس نہیں کرتے، تو تمہارا انہیں خدا بنانا کس قدر جہالت اور گمراہی ہے!
پھر اللہ تعالیٰ سخت وعید سناتا ہے کہ جو شخص میری عبادت سے انکار کرے اور تکبر کرے، میں قیامت کے دن اسے ضرور اپنے سامنے حاضر کروں گا۔ اس دن تمام مخلوقات — نیک و بد، مؤمن و کافر، انسان و جن — سب کو جمع کیا جائے گا، اور اللہ اپنے عدل کے ساتھ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ جو بندگی سے انکار کرے گا وہ ذلیل ہوگا، اور جو عاجزی سے بندگی کرے گا وہ سرفراز ہوگا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ بندگی اللہ کی سب سے بڑی سعادت ہے، یہ ذلت نہیں بلکہ شرف ہے۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے عظیم نبی اور اللہ کے مقرب فرشتے اپنے آپ کو اللہ کا بندہ کہلوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں، تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنی بندگی پر ناز کریں۔ بندگی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ذلیل ہیں، بلکہ یہ کہ ہم اس عظیم رب کے بندے ہیں جو تمام جہانوں کا مالک ہے۔
آج کے دور میں بہت سے لوگ اللہ کی عبادت سے شرم محسوس کرتے ہیں، یا اسے اپنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ یہ بالکل غلط ہے۔ حقیقی عزت اور سربلندی اسی میں ہے کہ ہم اللہ کے سامنے جھکیں، اس کی عبادت کریں اور اس کے احکام پر عمل کریں۔ جو لوگ تکبر کرتے ہیں اور عبادت سے منہ موڑتے ہیں، وہ آخرت میں سخت نقصان اٹھائیں گے۔ اللہ ہمیں عاجزی اور بندگی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 170-174 — نساء
ترجمہ — نساء 172
سورہ نساء آیت 172 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : مسیح اس بات سے عار نہیں رکھتے کہ خدا کے…سورہ آیت 172/176 — نساء النساء (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نساء سنیں, نساء ترجمہ, نساء mp3, نساء pdf. آیت 170–174. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








