ترجمہ — Tafsir
الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَيَكْتُمُونَ مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ ۗ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا
معانی الفاظ:
- يَبْخَلُونَ: بخل کرتے ہیں، یعنی جو کچھ اللہ نے دیا ہے اسے خرچ نہیں کرتے۔
- بِالْبُخْلِ: کنجوسی کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں۔
- يَكْتُمُونَ: چھپاتے ہیں، ظاہر نہیں کرتے۔
- فَضْلِهِ: اللہ کا فضل، یعنی رزق، علم، اور دوسری نعمتیں۔
- أَعْتَدْنَا: ہم نے تیار کر رکھا ہے۔
- عَذَابًا مُهِينًا: ذلت والا عذاب جو انسان کو رسوا کر دے۔
تفسیر:
یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو اللہ کے دیے ہوئے مال و دولت اور علم و ہدایت کو روک رکھتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخل اور کنجوسی کی ترغیب دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تین بڑی صفات بیان فرمائی ہیں:
پہلی صفت: وہ خود بخل کرتے ہیں، یعنی اللہ نے انہیں جو مال، اولاد، علم، صحت اور دوسری نعمتیں عطا فرمائی ہیں، وہ انہیں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، نہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، نہ صدقات و خیرات دیتے ہیں، اور نہ ہی اپنے اہل و عیال پر مناسب خرچ کرتے ہیں۔
دوسری صفت: وہ صرف خود ہی بخل نہیں کرتے بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیتے ہیں اور انہیں سخاوت اور فیاضی سے روکتے ہیں۔ وہ اپنے قول اور فعل دونوں سے لوگوں کو بخل کی تلقین کرتے ہیں، تاکہ نیکی اور بھلائی کے کام رک جائیں اور لوگ بھی انہیں کی طرح کنجوس بن جائیں۔
تیسری صفت: وہ اللہ کے فضل کو چھپاتے ہیں، یعنی جو نعمتیں اللہ نے انہیں عطا فرمائی ہیں، خواہ وہ مال ہو، علم ہو، یا نبی کریم ﷺ کی صفات کا علم ہو جو ان کی کتابوں میں موجود تھا، وہ سب کچھ چھپا دیتے ہیں اور لوگوں تک پہنچنے نہیں دیتے۔ وہ حق کو چھپاتے ہیں اور باطل کو ظاہر کرتے ہیں۔
ان تینوں صفات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ذلت والا عذاب تیار کر رکھا ہے، جو انہیں رسوا کرے گا اور ان کی کنجوسی اور حق چھپانے کی سزا ہوگی۔ یہ عذاب قیامت کے دن ہوگا جب ان کے چہرے سیاہ ہوں گے اور وہ سب کے سامنے ذلیل و خوار ہوں گے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں بہت اہم سبق دیتی ہے۔ بخل ایک بری عادت ہے جو انسان کو اللہ کی رحمت سے دور کر دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو مال اور نعمتیں دی ہیں، وہ ہماری امانت ہیں، اور ہم پر فرض ہے کہ انہیں اللہ کی راہ میں خرچ کریں۔ زکوٰۃ ادا کرنا، صدقہ دینا، غریبوں کی مدد کرنا، یہ سب ہمارے ایمان کا حصہ ہیں۔
یاد رکھیں! بخل کرنے والا اپنے مال کو تو بچا لیتا ہے، لیکن اللہ کی رحمت، برکت اور آخرت کی کامیابی کھو دیتا ہے۔ جبکہ خرچ کرنے والا اللہ کی راہ میں جو خرچ کرتا ہے، اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر دیتا ہے اور اس کے دلوں کو سکون عطا فرماتا ہے۔
آئیے ہم بخل سے بچیں اور سخاوت اپنائیں، اپنے اہل و عیال پر خرچ کریں، غریبوں کی مدد کریں، اور اللہ کے فضل کا شکر ادا کریں۔ جو نعمتیں اللہ نے ہمیں دی ہیں، انہیں چھپائیں نہیں بلکہ اللہ کا شکر ادا کریں اور دوسروں تک بھلائی پہنچائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سخاوت اور فیاضی عطا فرمائے اور بخل سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
📜 آیت 35-39 — نساء
ترجمہ — نساء 37
سورہ نساء آیت 37 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل…سورہ آیت 37/176 — نساء النساء (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نساء سنیں, نساء ترجمہ, نساء mp3, نساء pdf. آیت 35–39. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








