(اب) جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ۔ ہمیشہ اسی میں رہو گے۔ متکبروں کا کیا برا ٹھکانا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
اَبْوَابَ جَهَنَّمَ: جہنم کے دروازے (سات دروازے، جن میں سے ہر طبقے کے لیے ایک دروازہ ہے)
خَالِدِیْنَ: ہمیشہ رہنے والے
مَثْوٰی: ٹھکانہ، قیام گاہ
الْمُتَکَبِّرِیْنَ: تکبر کرنے والے، حق قبول کرنے سے سرکشی کرنے والے
تفسیر:
جب کافروں اور متکبروں کو جہنم میں داخل ہونے کا حکم دیا جائے گا تو ان سے کہا جائے گا: "داخل ہو جاؤ جہنم کے دروازوں میں، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔" یہ وہی دروازے ہیں جو ان کے اعمال کے مطابق ان کے لیے مخصوص کیے گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے یہ ٹھکانہ اس لیے تیار کیا ہے کہ انہوں نے دنیا میں حق کو قبول کرنے سے تکبر کیا، اللہ کے احکام کو ماننے سے انکار کیا، اور اپنے آپ کو بڑا سمجھا۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے "فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ" فرما کر یہ واضح کیا کہ جہنم کا مقصد صرف داخل ہونا نہیں بلکہ اس میں ہمیشہ رہنا ہے۔ یہ تکبر کرنے والوں کے لیے کتنا برا ٹھکانہ ہے! وہ ٹھکانہ جہاں نہ کوئی آرام ہے، نہ سکون، نہ کوئی دوست، نہ کوئی مددگار۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمارے لیے ایک زبردست نصیحت ہے کہ ہم اپنے دلوں سے تکبر اور غرور کو نکال دیں۔ تکبر وہ صفت ہے جو انسان کو جنت سے محروم کر دیتی ہے اور جہنم کا راستہ دکھاتی ہے۔ شیطان بھی تکبر کی وجہ سے ہی اللہ کی رحمت سے محروم ہوا تھا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم عاجزی اور انکساری کو اپنائیں، حق کو قبول کریں چاہے وہ کسی سے بھی آئے، اور اللہ کے سامنے اپنے آپ کو چھوٹا سمجھیں۔ یاد رکھیں! جنت کی راہ تواضع اور فروتنی سے گزرتی ہے، جبکہ جہنم کی راہ تکبر اور سرکشی سے۔ اللہ ہمیں تکبر سے بچائے اور عاجزی عطا فرمائے۔ آمین۔
تو (اے پیغمبر) صبر کرو خدا کا وعدہ سچا ہے۔ اگر ہم تم کو کچھ اس میں سے دکھادیں جس کا ہم تم سے وعدہ کرتے ہیں۔ (یعنی کافروں پر عذاب نازل کریں) یا تمہاری مدت حیات پوری کردیں تو ان کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے
اور ہم نے تم سے پہلے (بہت سے) پیغمبر بھیجے۔ ان میں کچھ تو ایسے ہیں جن کے حالات تم سے بیان کر دیئے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جن کے حالات بیان نہیں کئے۔ اور کسی پیغمبر کا مقدور نہ تھا کہ خدا کے حکم کے سوا کوئی نشانی لائے۔ پھر جب خدا کا حکم آپہنچا تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا گیا اور اہل باطل نقصان میں پڑ گئے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔