ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- یخرصون: اندازہ لگانا، تخمینہ کرنا، جھوٹی باتیں بنانا۔
تفسیر:
مشرکین مکہ نے کہا کہ اگر رحمٰن (اللہ) چاہتا تو ہم ان معبودوں (فرشتوں، جنہیں وہ پوجتے تھے) کی عبادت نہ کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ کی مشیت ہی ان کے شرک کا سبب ہے، گویا وہ اپنے جرم کا الزام اللہ پر ڈال رہے تھے۔ یہ ان کی طرف سے ایک باطل حجت تھی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر حجت قائم کر دی ہے۔ اس نے رسول بھیجے، کتابیں نازل کیں، اور عقل و فطرت سے ہر انسان کو راستہ دکھایا۔ پھر بھی انہوں نے اپنے اختیار سے شرک کا راستہ چنا۔ تقدیر کا حوالہ دینا اور اپنے گناہ کو اللہ کی مرضی سے جوڑنا انتہائی باطل اور جھوٹی دلیل ہے، خاص طور پر جب رسولوں کی تنبیہ پہنچ چکی ہو۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے اس قول کے بارے میں انہیں کوئی علم نہیں، نہ ان کے پاس کوئی وحی ہے، نہ کوئی دلیل، نہ کوئی برہان۔ وہ صرف اندازے اور قیاس سے باتیں بناتے ہیں، اور حقیقت میں وہ محض جھوٹ بول رہے ہیں۔ وہ اللہ پر افترا کر رہے ہیں، کیونکہ اللہ نے کبھی اپنے بندوں کو شرک کا حکم نہیں دیا، بلکہ ہمیشہ توحید کا حکم دیا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان کو اپنے اعمال کی ذمہ داری خود اٹھانی چاہیے۔ تقدیر کو بہانہ بنا کر گناہوں کو جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ اللہ نے ہمیں عقل دی، قرآن دیا، رسول بھیجے، اور راہِ ہدایت واضح کر دی۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ہم اس ہدایت کو قبول کریں یا رد کریں۔ اللہ کا دین آسان ہے، اور وہ چاہتا ہے کہ ہم اس کی عبادت کریں، اسی میں ہماری کامیابی ہے۔ آئیے ہم اپنے دلوں کو شرک اور جھوٹ سے پاک کریں، اور خالص توحید پر قائم رہیں، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اللہ کی رحمت اور جنت تک پہنچاتا ہے۔
📜 آیت 18-22 — زخرف
ترجمہ — زخرف 20
سورہ زخرف آیت 20 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور کہتے ہیں اگر خدا چاہتا تو ہم ان کو…سورہ آیت 20/89 — زخرف الزخرف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: زخرف سنیں, زخرف ترجمہ, زخرف mp3, زخرف pdf. آیت 18–22. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








