Qaala innamal `ilmu indal laahi wa uballighukum maaa uriltu bihee wa laakinneee araakum qawman tajhaloon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
(انہوں نے) کہا کہ (اس کا) علم تو خدا ہی کو ہے۔ اور میں تو جو (احکام) دے کر بھیجا گیا ہوں وہ تمہیں پہنچا رہا ہوں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی میں پھنس رہے ہو
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
گفت: اين را خدا مىداند و من آنچه را بدان مبعوث شدهام به شما مىرسانم. ولى مىبينم كه مردمى نادان هستيد.
حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کے اس اشتعال انگیز مطالبے کے جواب میں، جب انہوں نے کہا تھا کہ "اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لاؤ"، تو آپ نے نہایت حکمت اور سکون کے ساتھ فرمایا: "یہ علم صرف اللہ کے پاس ہے۔" یعنی عذاب کے آنے کا وقت، اس کی کیفیت، اور اس کی نوعیت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، مجھے اس کا کوئی علم نہیں۔ میرا کام صرف یہ ہے کہ جو پیغام اللہ نے مجھے دے کر بھیجا ہے، اسے تم تک پہنچا دوں۔ میں تمہارے لیے عذاب لانے والا نہیں، بلکہ اللہ کا رسول ہوں، میری ذمہ داری صرف تبلیغ ہے۔
پھر آپ نے اپنی قوم کی اس جہالت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: "لیکن میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم ایسی قوم ہو جو جہالت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔" تم عذاب کو جلدی مانگ رہے ہو، حالانکہ یہ تمہارے لیے تباہی کا سبب بنے گا۔ تم اس چیز کی جلدی کر رہے ہو جو تمہارے لیے نقصان دہ ہے، اور اس چیز سے منہ موڑ رہے ہو جو تمہارے لیے نفع بخش ہے۔ یہ تمہاری جہالت کی انتہا ہے کہ تم اپنے نبی کی بات نہیں مانتے، اور اس عذاب کو دعوت دیتے ہو جو تمہیں ہلاک کر دے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت کریمہ سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں:
علم غیب صرف اللہ کے پاس ہے: ہمیں یہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ کوئی نبی، کوئی ولی، کوئی بزرگ غیب نہیں جانتا۔ یہی ہمارے ایمان کی بنیاد ہے۔
رسول کا کام صرف تبلیغ ہے: ہمیں بھی اپنے حصے کا کام کرنا چاہیے، یعنی اللہ کے دین کو پہنچانا۔ نتیجہ اللہ کے حوالے کر دینا چاہیے۔ ہمیں کامیابی کی فکر نہیں کرنی چاہیے، بلکہ اپنی ذمہ داری نبھانے کی فکر کرنی چاہیے۔
جہالت سے بچنا: جہالت انسان کو ایسے کاموں پر اکساتی ہے جو اس کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ ہمیں علم حاصل کرنا چاہیے، قرآن و سنت کو سمجھنا چاہیے، تاکہ ہم جہالت کے اندھیروں میں بھٹکنے سے بچ سکیں۔
عذاب سے ڈرنا: ہمیں اللہ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے، اسے جلدی نہیں مانگنا چاہیے، بلکہ اس سے بچنے کی تدبیر کرنی چاہیے۔ توبہ اور استغفار ہی وہ ذریعہ ہے جو ہمیں اللہ کے عذاب سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے کی توفیق دے، اور ہمیں جہالت سے بچا کر علمِ نافع عطا فرمائے۔ آمین۔
(انہوں نے) کہا کہ (اس کا) علم تو خدا ہی کو ہے۔ اور میں تو جو (احکام) دے کر بھیجا گیا ہوں وہ تمہیں پہنچا رہا ہوں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی میں پھنس رہے ہو
اور (قوم) عاد کے بھائی (ہود) کو یاد کرو کہ جب انہوں نے اپنی قوم کو سرزمین احقاف میں ہدایت کی اور ان سے پہلے اور پیچھے بھی ہدایت کرنے والے گزرچکے تھے کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا ڈر لگتا ہے
(انہوں نے) کہا کہ (اس کا) علم تو خدا ہی کو ہے۔ اور میں تو جو (احکام) دے کر بھیجا گیا ہوں وہ تمہیں پہنچا رہا ہوں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی میں پھنس رہے ہو
پھر جب انہوں نے اس (عذاب کو) دیکھا کہ بادل (کی صورت میں) ان کے میدانوں کی طرف آرہا ہے تو کہنے لگے یہ تو بادل ہے جو ہم پر برس کر رہے گا۔ (نہیں) بلکہ (یہ) وہ چیز ہے جس کے لئے تم جلدی کرتے تھے یعنی آندھی جس میں درد دینے والا عذاب بھرا ہوا ہے
ہر چیز کو اپنے پروردگار کے حکم سے تباہ کئے دیتی ہے تو وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے گھروں کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا تھا۔ گنہگار لوگوں کو ہم اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔