ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فَقَرَّبَهُ: اسے ان کے سامنے پیش کیا۔
- أَلَا تَأْكُلُونَ: کیا آپ کھاتے نہیں؟ (یہ تعجب اور شفقت کے ساتھ دعوت کا انداز ہے)
تفسیر:
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے مہمانوں کی خدمت کا انتظام کیا اور خاموشی سے اپنے گھر والوں کی طرف گئے۔ انہوں نے ایک موٹا تازہ بچھڑا ذبح کیا، اسے بھون کر خوب تیار کیا، اور پھر اسے اپنے مہمانوں کے سامنے پیش کیا۔ یہ پیش کش نہایت محبت اور عزت کے ساتھ تھی۔ انہوں نے مہمانوں کو کھانے کی دعوت دیتے ہوئے نہایت نرمی اور شفقت سے کہا: "کیا آپ کھانا نہیں کھائیں گے؟"
یہ انداز دعوت دراصل ان کی مہمان نوازی کا اعلیٰ نمونہ ہے کہ انہوں نے نہ صرف کھانا تیار کیا بلکہ مہمانوں کو کھانے پر آمادہ کرنے کے لیے نہایت خوش اسلوبی سے بات کی۔ اس آیت میں ہمیں سیکھنے کو ملتا ہے کہ مہمان نوازی کرنا اور مہمانوں کی خاطر تواضع کرنا انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے۔ کھانا پیش کرتے وقت نرمی اور محبت کا انداز اختیار کرنا چاہیے، نہ کہ زبردستی یا بے رغبتی سے۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ نیکی اور بھلائی کا راستہ اختیار کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اپنی خاص رحمت سے نوازتا ہے، اور مہمان نوازی جیسی عظیم صفت انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے۔ آج ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے گھر آنے والے مہمانوں کی عزت کریں، ان کی خدمت کریں، اور انہیں کھانا پیش کرتے وقت خوش اخلاقی اور محبت کا مظاہرہ کریں، جیسا کہ خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا۔ یہ عمل ہمارے ایمان کی نشانی ہے اور اللہ کی رحمت کو ہماری طرف متوجہ کرتا ہے۔
📜 آیت 25-29 — ذاریات
ترجمہ — ذاریات 27
سورہ ذاریات آیت 27 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (اور کھانے کے لئے) ان کے آگے رکھ دیا۔ کہنے…سورہ آیت 27/60 — ذاریات الذاريات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ذاریات سنیں, ذاریات ترجمہ, ذاریات mp3, ذاریات pdf. آیت 25–29. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








