ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- الْأَشِرُ: متکبر، سرکش، جو حد سے بڑھ کر غرور و تکبر کرے۔
تفسیر آیت:
یہ آیت قومِ ثمود کے بارے میں نازل ہوئی، جب انہوں نے حضرت صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور ان پر بہتان لگایا کہ تم پر وحی کیوں نازل ہوئی؟ تم تو ہم میں سے ایک عام انسان ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس رویے کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ عنقریب وہ خود جان لیں گے کہ حقیقت میں کون جھوٹا اور سرکش ہے۔
یہاں "غَدًا" (کل) سے مراد مستقبل قریب ہے، یعنی جب عذاب نازل ہوگا تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ اصل میں کون کذاب اور متکبر تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک دھمکی اور تنبیہ ہے کہ حق کو جھٹلانے والوں کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح کیا کہ نبیوں کی صداقت کا ثبوت ان کے معجزات اور ان کی پاکیزہ زندگی ہوتی ہے، نہ کہ دنیاوی مرتبہ یا قوم کی طرف سے قبولیت۔ قومِ ثمود نے حضرت صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور ان پر الزام لگایا، لیکن اللہ نے فرمایا کہ عنقریب وہ خود دیکھ لیں گے کہ عذاب کس پر نازل ہوتا ہے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کا انکار کرنے والے چاہے دنیا میں کتنا ہی غرور اور تکبر کریں، آخرت میں ان کی حقیقت کھل جائے گی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم حق کو قبول کریں اور اپنے اعمال میں اخلاص رکھیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا بدلہ دینے والا ہے۔ یہ آیت مومنین کے لیے تسلی ہے کہ ان کے دشمن اگر دنیا میں ہنسیں تو آخرت میں ان کا انجام برا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 24-28 — قمر
ترجمہ — قمر 26
سورہ قمر آیت 26 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ان کو کل ہی معلوم ہوجائے گا کہ کون جھوٹا…سورہ آیت 26/55 — قمر القمر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قمر سنیں, قمر ترجمہ, قمر mp3, قمر pdf. آیت 24–28. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








