ترجمہ — Tafsir
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
معانی الفاظ:
"آلاء" کا لفظ "أَلًی" کی جمع ہے، جس کا مطلب ہے نعمتیں اور احسانات۔ "تُکَذِّبَانِ" کا مطلب ہے تم دونوں جھٹلاتے ہو۔ اس آیت میں "رَبِّکُمَا" کا خطاب جن و انس دونوں کو ہے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ جن اور انسان دونوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اے جن و انس کی جماعت! تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر جو ظاہری اور باطنی، دینی اور دنیوی نعمتیں نازل فرمائی ہیں، ان میں سے کون سی نعمت ایسی ہے جسے تم جھٹلا سکتے ہو؟ یہ سوال دراصل انہیں جھٹلانے پر شرمندہ کرنے کے لیے ہے، کیونکہ جب کوئی شخص کسی کے احسانات کو مانتا ہی نہ ہو تو اس سے کہا جاتا ہے کہ بتاؤ تو سہی کون سا احسان جھٹلاتے ہو؟
یہ آیت سورۃ الرحمن میں اکتیس مرتبہ دہرائی گئی ہے، جس کا مقصد نعمتوں کی قدر و منزلت کو اجاگر کرنا، ان کی یاد دہانی کرانا اور نعمتوں کے منکرین کو جھڑکنا ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے اس آیت کو جنات پر پڑھا تو ان کا جواب بہت خوبصورت تھا، انہوں نے کہا: "ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے، اے ہمارے رب! تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے۔" یہی جواب ہر مسلمان کو دینا چاہیے جب وہ اللہ کی نعمتوں کا ذکر سنے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر بے شمار نعمتیں نازل فرمائی ہیں، جن کا شمار کرنا ممکن نہیں۔ ہر سانس، ہر دھڑکن، ہر لمحہ اللہ کی عظیم نعمت ہے۔ جب ہم اپنے گرد و پیش نظر دوڑائیں تو ہمیں ہر طرف اللہ کے فضل و کرم کے آثار نظر آئیں گے۔ یہ آیت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے رب کی نعمتوں کا اعتراف کریں، ان پر شکر ادا کریں اور اپنی زبان سے الحمدللہ کہیں۔ اللہ کی نعمتوں کا انکار کرنا یا انہیں بھول جانا انسان کی ناشکری ہے، جبکہ شکر کرنے سے اللہ مزید نعمتیں عطا فرماتا ہے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں میں شکرگزاری کو اپنائیں اور اللہ کی نعمتوں کا ذکر کرتے رہیں، کیونکہ نعمت کا ذکر کرنا بھی شکر کی ایک صورت ہے۔
📜 آیت 11-15 — رحمن
ترجمہ — رحمن 13
سورہ رحمن آیت 13 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو (اے گروہ جن وانس) تم اپنے پروردگار کی کون…سورہ آیت 13/78 — رحمن الرحمن (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: رحمن سنیں, رحمن ترجمہ, رحمن mp3, رحمن pdf. آیت 11–15. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








