ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- یُصِرّونَ: ضد پر قائم رہنا، اصرار کرنا، کسی بات پر جمے رہنا۔
- الْحِنثِ: گناہ، خطا، لغزش۔
- الْعَظِيمِ: بہت بڑا، عظیم الشان۔
تفسیر:
یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے محروم رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ اپنے بڑے گناہ پر اصرار کرتے رہے۔ وہ گناہ کیا تھا؟ وہ تھا اللہ کے ساتھ شرک کرنا، اس کی عبادت کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرانا، اور اس کے احکام کی نافرمانی پر ڈٹے رہنا۔ وہ نہ صرف گناہ کرتے تھے بلکہ اس پر اڑے رہتے تھے، توبہ کا ارادہ نہیں کرتے تھے، اور نہ ہی اپنے کیے پر شرمندہ ہوتے تھے۔ یہ اصرار اور ضد ہی ان کی ہلاکت کا سبب بنی۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں ایک اہم سبق سکھاتی ہے کہ گناہ کرنا برا ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ برا گناہ پر اصرار کرنا ہے۔ انسان سے غلطی ہو جائے تو اللہ معاف کرنے والا ہے، لیکن جو شخص گناہ پر جم جائے، اسے اپنی غلطی کا احساس نہ ہو، اور وہ توبہ سے منہ موڑ لے، تو یہ بہت خطرناک ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے، وہ ہر گناہ کو معاف کر سکتا ہے بشرطیکہ ہم سچے دل سے توبہ کریں۔ آئیے ہم اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اللہ کی طرف لوٹ آئیں، اور اس کی رحمت کے طلبگار بنیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔" (سورۃ الزمر: 53)۔ اللہ ہمیں گناہ پر اصرار کرنے سے بچائے اور توبہ کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 44-48 — واقعہ
ترجمہ — واقعہ 46
سورہ واقعہ آیت 46 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور گناہ عظیم پر اڑے ہوئے تھےسورہ آیت 46/96 — واقعہ الواقعة (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: واقعہ سنیں, واقعہ ترجمہ, واقعہ mp3, واقعہ pdf. آیت 44–48. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








