ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مُغْرَمُونَ: عذاب میں مبتلا، نقصان اٹھانے والے، یا تاوان ادا کرنے والے۔
تفسیر:
جب کسان اپنی فصل کو تباہ حال دیکھتا ہے، جب وہ محنت، مشقت اور لاگت کے باوجود اپنے کھیت کو اجڑا ہوا پاتا ہے، تو اس کے دل سے نکلنے والے الفاظ یہی ہوتے ہیں: "ہم تو سزا یافتہ ہو گئے، ہم پر مصیبت آ گئی، ہمارا سب کچھ برباد ہو گیا۔" یہ کہنا دراصل اس شدید مایوسی اور غم کا اظہار ہے جو اسے اپنے نقصان پر ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس آیت میں انسان کے اس رویے کو بیان فرما رہے ہیں کہ جب وہ اپنی فصل کو تباہ شدہ دیکھتا ہے تو وہ اپنے آپ کو عذاب میں مبتلا سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم تو برباد ہو گئے، ہم پر قرض اور تاوان ہو گیا۔ یہ اس کی بے صبری اور اللہ کی قدرت سے غفلت کا مظہر ہے۔ حالانکہ اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ ہی ہے جو فصل اگاتا ہے اور اللہ ہی ہے جو اسے تباہ کرتا ہے، اور اس کی حکمت میں ہی بھلائی ہوتی ہے۔
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور اس کی تقدیر پر راضی رہنا چاہیے۔ جب کوئی نقصان یا مصیبت آئے تو اسے صبر اور شکر کے ساتھ قبول کرنا چاہیے، نہ کہ اللہ کی مشیت پر اعتراض کرنا چاہیے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا کی یہ چیزیں آزمائش کا ذریعہ ہیں، اور اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے۔ اگر ہم اللہ کی قدرت اور حکمت پر یقین رکھیں گے تو ہر حال میں سکون اور اطمینان حاصل کریں گے، اور اللہ ہمیں اس سے بہتر عطا فرمائے گا۔
📜 آیت 64-68 — واقعہ
ترجمہ — واقعہ 66
سورہ واقعہ آیت 66 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (کہ ہائے) ہم تو مفت تاوان میں پھنس گئےسورہ آیت 66/96 — واقعہ الواقعة (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: واقعہ سنیں, واقعہ ترجمہ, واقعہ mp3, واقعہ pdf. آیت 64–68. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








