کہہ دو کہ خدا ہی کی حجت غالب ہے اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
حُجَّة: دلیل، برہان، وہ چیز جو کسی بات کو ثابت کرے۔
بَالِغَة: کامل، پوری، ناقابلِ تردید۔
لَهَدَاكُمْ: وہ تمہیں ہدایت دیتا۔
أَجْمَعِينَ: سب کو، تمام لوگوں کو۔
تفسیر:
اے نبی! آپ ان مشرکین سے فرما دیجیے کہ اگر تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے سوائے ان بے بنیاد گمانوں اور وہم کے، تو یاد رکھو کہ اللہ کی حجت اور دلیل کامل اور ناقابلِ تردید ہے۔ اس کی حجت اس قدر پوری اور مکمل ہے کہ اس کے سامنے تمہارے تمام عذر اور بہانے باطل ہو جاتے ہیں، اور تمہارے وہ شبہات بھی ختم ہو جاتے ہیں جنہیں تم پکڑے ہوئے ہو۔ اللہ نے اپنی حجت اپنے کتابوں اور رسولوں کے ذریعے قائم کر دی ہے، اور لوگوں پر کوئی الزام باقی نہیں رہا۔
پھر فرمایا: اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دیتا اور تم سب کو راہِ راست پر چلا دیتا، لیکن اس کی مشیت اور حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ ہدایت کو اسباب اور اختیار کے ساتھ جوڑے۔ اللہ نے ہر شخص کو عقل اور اختیار دیا، اور رسول بھیجے، اور کتابیں نازل کیں، تاکہ لوگ اپنے اختیار سے راہِ حق چنیں۔ جو اللہ کی ہدایت کو قبول کرے وہ کامیاب ہو، اور جو انکار کرے وہ اپنے نقصان کا ذمہ دار خود ہو۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی حجت ہمیشہ غالب اور کامل ہوتی ہے، اور اس کے سامنے کوئی عذر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں، اس کی ہدایت کو قبول کریں، اور اپنے اختیار کو صحیح راستے پر استعمال کریں۔ اللہ نے ہمیں عقل دی ہے تاکہ ہم سوچیں، اور قرآن دیا تاکہ ہم اس پر عمل کریں، اور رسول بھیجا تاکہ ہم ان کی پیروی کریں۔ یہ سب اللہ کی رحمت اور حکمت کا تقاضا ہے، تاکہ ہم دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوں۔
اللہ کی حجت بالغہ کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر کوئی الزام نہیں چھوڑا، بلکہ ہر وہ چیز فراہم کر دی جو ہدایت کے لیے ضروری تھی۔ پس جو شخص ہدایت حاصل کرنا چاہے، اس کے لیے راستے کھلے ہیں، اور جو گمراہی اختیار کرے، وہ اپنے اختیار سے کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں ثابت قدم رکھے، اور ہمیشہ حق پر چلنے کی توفیق دے۔
جو لوگ شرک کرتے ہیں وہ کہیں گے کہ اگر خدا چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا (شرک کرتے) اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے اسی طرح ان لوگوں نے تکذیب کی تھی جو ان سے پہلے تھے یہاں تک کہ ہمارے عذاب کا مزہ چکھ کر رہے کہہ دو کیا تمہارے پاس کوئی سند ہے (اگر ہے) تو اسے ہمارے سامنے نکالو تم محض خیال کے پیچھے چلتے اور اٹکل کی تیر چلاتے ہو
کہو کہ اپنے گواہوں کو لاؤ جو بتائیں کہ خدا نے یہ چیزیں حرام کی ہیں پھر اگر وہ (آ کر) گواہی دیں تو تم ان کے ساتھ گواہی نہ دینا اور نہ ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی کرنا جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور (بتوں کو) اپنے پروردگار کے برابر ٹھہراتے ہیں
کہہ کہ (لوگو) آؤ میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے پروردگار نے تم پر حرام کر دی ہیں (ان کی نسبت اس نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے) کہ کسی چیز کو خدا کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ (سے بدسلوکی نہ کرنا بلکہ) سلوک کرتے رہنا اور ناداری (کے اندیشے) سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا کیونکہ تم کو اور ان کو ہم ہی رزق دیتے ہیں اور بےحیائی کے کام ظاہر ہوں یا پوشیدہ ان کے پاس نہ پھٹکنا اور کسی جان (والے) کو جس کے قتل کو خدا نے حرام کر دیا ہے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی جس کا شریعت حکم دے) ان باتوں کا وہ تمہیں ارشاد فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔