Wa tilka hujjatunaaa aatainaahaaa Ibraaheema `alaa qawmih; narfa`u darajaatim man nashaaa`; inna Rabbaka Hakeemun `Aleem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور یہ ہماری دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم کے مقابلے میں عطا کی تھی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کردیتے ہیں۔ بےشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اين برهان ما بود، كه آن را به ابراهيم تلقين كرديم در برابر قومش. هر كه را بخواهيم به درجاتى بالا مىبريم. هر آينه پروردگار تو حكيم و داناست.
اور یہ ہماری دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم کے مقابلے میں عطا کی تھی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کردیتے ہیں۔ بےشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
حُجَّتُنَا: ہماری دلیل اور برہان۔
آتَيْنَاهَا: ہم نے عطا کی۔
نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ: ہم بلند کرتے ہیں درجے۔
حَكِيمٌ: بڑی حکمت والا۔
عَلِيمٌ: سب کچھ جاننے والا۔
تفسیر:
یہ وہ حجت اور دلیل ہے جو ہم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان کی قوم کے مقابلے میں عطا کی تھی۔ جب انہوں نے ستاروں، چاند اور سورج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنی قوم کو توحید کی طرف بلایا اور بتایا کہ یہ سب افلاک کے نظام میں محکوم ہیں، یہ کوئی خود مختار معبود نہیں ہو سکتے، تو یہ دلیل اتنی واضح اور قاطع تھی کہ ان کی قوم کے پاس کوئی جواب نہ بچا۔ یہ حجت ہماری طرف سے تھی، ہم نے ہی انہیں یہ بصیرت اور علم عطا کیا تھا۔
ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں علم، حکمت اور سمجھ کے درجات بلند کرتے ہیں۔ یہ ہمارا فضل ہے جو ہم جس پر چاہیں نازل کرتے ہیں۔ اے نبی! آپ کا رب بڑی حکمت والا ہے، ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھتا ہے، اور اپنے بندوں کے حالات سے خوب واقف ہے، جانتا ہے کہ کسے یہ بلند مقام دینا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ علم اور سمجھ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ جب انسان اخلاص کے ساتھ حق کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بصیرت عطا فرماتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی عقل اور فطرت سے کام لیا اور اللہ نے انہیں ایسی دلیل دی جو قوم کے سامنے چمکتی ہوئی روشنی بن گئی۔ آج بھی جو شخص سچائی کی تلاش میں خلوص دل سے نکلتا ہے، اللہ اسے راستہ دکھاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ علم حاصل کریں، غور و فکر کریں اور اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں سمجھ اور بصیرت عطا فرمائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت دونوں میں بلندی عطا کرتا ہے۔
بھلا میں ان چیزوں سے جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو کیونکرڈروں جب کہ تم اس سے نہیں ڈرتے کہ خدا کے ساتھ شریک بناتے ہو جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ اب دونوں فریق میں سے کون سا فریق امن (اور جمعیت خاطر) کا مستحق ہے۔ اگر سمجھ رکھتے ہو (تو بتاؤ)
اور یہ ہماری دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم کے مقابلے میں عطا کی تھی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کردیتے ہیں۔ بےشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے
اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب بخشے۔ (اور) سب کو ہدایت دی۔ اور پہلے نوح کو بھی ہدایت دی تھی اور ان کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو بھی۔ اور ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔