انعام · 89/165
ترجمہ تلفظ — انعام
أُولَٰئِكَ الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ۚ فَإِن يَكْفُرْ بِهَا هَٰؤُلَاءِ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّيْسُوا بِهَا بِكَافِرِينَ ۝٨٩
Ulaaa`ikal lazeena aatainaahumul Kitaaba wal hukma wan Nubuwwah; fa iny yakfur bihaa haaa`ulaaa`i faqad wakkalnaa bihaa qawmal laisoo bihaa bikaafireen
📖 اردو ترجمہ
یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم (شریعت) اور نبوت عطا فرمائی تھی۔ اگر یہ (کفار) ان باتوں سے انکار کریں تو ہم نے ان پر (ایمان لانے کے لئے) ایسے لوگ مقرر کردیئے ہیں کہ وہ ان سے کبھی انکار کرنے والے نہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • الْحُكْمَ: علم و فہم، یا نبوت و رسالت کا فیصلہ، بعض مفسرین کے نزدیک حکمت اور علمِ دین۔
  • النُّبُوَّةَ: رسالت اور پیغمبری۔
  • وَكَّلْنَا: ہم نے سونپ دیا، یعنی اس کی حفاظت اور ذمہ داری کسی اور قوم کو دے دی۔
  • لَيْسُوا بِهَا بِكَافِرِينَ: وہ اس کے منکر نہیں ہوں گے، بلکہ ایمان لانے والے ہوں گے۔

تفسیر:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ ان انبیاءِ عظام کا ذکر فرما رہے ہیں جن کا تذکرہ پچھلی آیات میں ہوا، جیسے حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت نوح، حضرت داؤد، حضرت سلیمان، حضرت ایوب، حضرت یوسف، حضرت موسیٰ، حضرت ہارون، حضرت زکریا، حضرت یحییٰ، حضرت عیسیٰ، حضرت الیاس، حضرت اسماعیل، حضرت الیسع، حضرت یونس اور حضرت لوط علیہم السلام۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ وہ برگزیدہ ہستیاں ہیں جنہیں ہم نے کتاب (صحیفے، تورات، زبور، انجیل وغیرہ)، حکم (علم و فہم اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت) اور نبوت (رسالت) عطا کی۔

پھر اللہ تعالیٰ اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر یہ کفارِ مکہ ان چیزوں (کتاب، حکم، نبوت) کا انکار کرتے ہیں، یعنی قرآن اور آپ کی رسالت کو جھٹلاتے ہیں، تو آپ غمگین نہ ہوں، کیونکہ ہم نے ان ہی چیزوں کی حفاظت اور قبولیت کے لیے ایک اور قوم تیار کر رکھی ہے جو ان سے کبھی کافر نہیں ہوگی۔ یہ قوم مہاجرین، انصار اور ان کے اتباع ہیں جو قیامت تک ایمان لائیں گے، قرآن پر عمل کریں گے، اس کی خدمت کریں گے اور اسے اپنا دستورِ حیات بنائیں گے۔

یہ آیت مسلمانوں کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو قرآن کی حفاظت اور اشاعت کا ذمہ دار بنایا ہے۔ جب تک کوئی قوم قرآن سے جڑی رہتی ہے، اللہ کی مدد اور نصرت اس کے شامل حال رہتی ہے۔ اور اگر کوئی قوم قرآن کو چھوڑ دیتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اٹھا کر کسی اور قوم کو دے دیتا ہے جو اس کی قدر کرنے والی ہوتی ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ قرآن کریم اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے، اور اسے قبول کرنے والوں کو اللہ عزوجل عزت دیتا ہے۔ آج بھی اگر ہم چاہتے ہیں کہ اللہ کی مدد ہمارے شامل حال ہو، تو ہمیں قرآن کو سمجھنا، اس پر عمل کرنا اور اسے دوسروں تک پہنچانا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہمارے اسلاف نے دنیا میں عدل و انصاف کا نظام قائم کیا۔ آئیے ہم اپنے دلوں کو قرآن سے جوڑیں، اس کی تلاوت کریں، اس کے معانی سمجھیں اور اس پر عمل کرکے اپنی زندگیاں سنواریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کا حقیقی خادم بنائے، آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 87-91 — انعام

87وَمِنْ آبَائِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ وَإِخْوَانِهِمْ ۖ وَاجْتَبَيْنَاهُمْ وَهَدَيْنَاهُمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
اور بعض بعض کو ان کے باپ دادا اور اولاد اور بھائیوں میں سے بھی۔ اور ان کو برگزیدہ بھی کیا تھا اور سیدھا رستہ بھی دکھایا تھا
88ذَٰلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۚ وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ
یہ خدا کی ہدایت ہے اس پر اپنے بندوں میں سے جسے چاہے چلائے۔ اور اگر وہ لوگ شرک کرتے تو جو عمل وہ کرتے تھے سب ضائع ہوجاتے
89أُولَٰئِكَ الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ۚ فَإِن يَكْفُرْ بِهَا هَٰؤُلَاءِ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّيْسُوا بِهَا بِكَافِرِينَ
یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم (شریعت) اور نبوت عطا فرمائی تھی۔ اگر یہ (کفار) ان باتوں سے انکار کریں تو ہم نے ان پر (ایمان لانے کے لئے) ایسے لوگ مقرر کردیئے ہیں کہ وہ ان سے کبھی انکار کرنے والے نہیں
90أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ ۗ قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا ۖ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَىٰ لِلْعَالَمِينَ
یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی تھی تو تم انہیں کی ہدایت کی پیروی کرو۔ کہہ دو کہ میں تم سے اس (قرآن) کا صلہ نہیں مانگتا۔ یہ تو جہان کے لوگوں کے لئےمحض نصیحت ہے
91وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِذْ قَالُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ عَلَىٰ بَشَرٍ مِّن شَيْءٍ ۗ قُلْ مَنْ أَنزَلَ الْكِتَابَ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَىٰ نُورًا وَهُدًى لِّلنَّاسِ ۖ تَجْعَلُونَهُ قَرَاطِيسَ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيرًا ۖ وَعُلِّمْتُم مَّا لَمْ تَعْلَمُوا أَنتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ ۖ قُلِ اللَّهُ ۖ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِي خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ
اور ان لوگوں نے خدا کی قدر جیسی جاننی چاہیئے تھی نہ جانی۔ جب انہوں نے کہا کہ خدا نے انسان پر (وحی اور کتاب وغیرہ) کچھ بھی نازل نہیں کیا۔ کہو جو کتاب موسیٰ لے کر آئے تھے اسے کس نے نازل کیا تھا جو لوگوں کے لئے نور اور ہدایت تھی اور جسے تم نے علیحدہ علیحدہ اوراق (پر نقل) کر رکھا ہے ان (کے کچھ حصے) کو تو ظاہر کرتے ہو اور اکثر کو چھپاتے ہو۔ اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جن کو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا۔ کہہ دو (اس کتاب کو) خدا ہی نے (نازل کیا تھا) پھر ان کو چھوڑ دیا کہ اپنی بیہودہ بکواس میں کھیلتے رہیں
انعامقرآن فہرست
165آیت
مکیRevelation
89آیت

ترجمہ — انعام 89

سورہ انعام آیت 89 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور…

سورہ آیت 89/165 — انعام الأنعام (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انعام سنیں, انعام ترجمہ, انعام mp3, انعام pdf. آیت 87–91. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں